کتاب: تفہیم دین - صفحہ 325
جواب:شریعت اسلامیہ میں جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة رضاعت وہ رشتے حرام کرتی ہے جو رشتے ولادت حرام کرتی ہے۔ (بخاری مع الفتح 9/140،مسلم 1444) یعنی جس طرح سگی ماں،بہن،بیٹی،بھتیجی،بھانجی،پھوپھی اور خالہ حرام ہیں اس طرح یہ رضاعی رشتے بھی حرام ہیں،لہذا جس شخص نے اپنی بہن کا دودھ پیا ہو،بہن کی اولاد اس شخص کے بھائی بہن ہوں گے اور اس شخص کی اولاد کے چچا اور پھوپھیاں ہوں گی جن کا باہمی نکاح حرام ہے۔ صورت مذکورہ میں تو سگے باپ کا رضاعی بھائی مذکورہ شخص کی اولاد کا چچا لگتا ہے خیرالقرون میں ایسی مثال ملتی ہے کہ رضاعی باپ کا بھائی جو کہ دودھ پینے والی لڑکی کا چچا لگتا ہے اس کے ساتھ مذکورہ لڑکی کا نکاح حرام ٹھہرا جیسا کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو القعیس کے بھائی افلح نے حجاب کے نزول کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۔میں نے کہا:اسے اتنی دیر تک اجازت نہیں دوں گی جب تک کہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب نہ کر لوں۔اس لئے کہ اس کے بھائی ابو القعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا:یا رسول اللہ! ابو القعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا تاکہ میں آپ سے دریافت کر لوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے اجازت دینے سے کیا چیز مانع ہے،وہ تیرا چچا ہے۔میں نے کہا:یا رسول اللہ! یقینا مرد نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو اسے اجازت دے دے اس لئے کہ وہ تیرا چچا لگتا ہے۔عروہ راوی حدیث کہتا ہے کہ اسی لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھی:حرموا من الرضاعة ماتحرمون من النسب جو رشتے نسب سے حرام سمجھتے ہو،وہی