کتاب: تفہیم دین - صفحہ 264
مرتبہ حج واجب ہے۔" "مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا"کی تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے"الزاد و الراحلۃ"یعنی سفر اور سواری مروی ہے"۔(ابن کثیر 1/414) اس سے معلوم ہوا کہ جس آدمی کے پاس سامان سفر اور سواری کا انتظام موجود ہو اس پر حج فرض ہے اور جو آدمی طاقت کے باوجود حج نہ کرے وہ ایک فرض کا تارک ہے۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جو آدمی حج کی طاقت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے برابر ہے اس پر خواہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔"(تفسیر ابن کثیر،ابن ابی شیبہ) حج کے جملہ مسائل و احکام اقسام حج حج تین قسم کا ہوتا ہے ہر ایک کی تفصیل درج ذیل ہے: حج افراد افراد کا معنی اکیلا ہے۔حج افراد کا شرعی معنی یہ ہے کہ حج کرنے والا صرف حج ہی کی نیت کر کے میقات سے احرام باندھے،اس میں عمرہ شامل نہیں ہوتا،حج کا احرام باندھ کر ایک بار یوں کہے:اللّٰهم لبيك بالحج(بخاری 213)(اے اللہ میں حج کے لیے حاضر ہو گیا ہوں)پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف(طواف قدوم)کرے،پھر حالت احرام ختم کئے بغیر آٹھ ذوالحج کو حج کی ادائیگی کے لئے منیٰ کی جانب روانہ ہو جائے۔ حج افراد کرنے والا شخص اگر طواف قدوم کے بعد صفا و مروہ کی سعی سے بھی فارغ ہو جائے تو وہ(دس ذوالحجہ کو رش سے بچنے کی وجہ سے)سہولت میں رہے گا۔ (ابوداؤد 2/160)