کتاب: تفہیم دین - صفحہ 255
طعنہ دیں گے۔(ابن ماجہ ابواب الاضاحی باب من ضحیٰ بشاۃ من اھلہ 3148) مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بکری کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کفایت کرتی ہے،اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ قربانیاں کرنا چاہے تو وہ افضل ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کئی قربانیاں بھی کی ہیں۔ بھینس کے بچھڑے کا عقیقہ سوال:لڑکے کے عقیقہ میں کٹا ذبح کیا جا سکتا ہے،اسی طرح اگر کٹا بڑا ہو تو اس کے حصے تصور کر کے لڑکی اور لڑکے کا عقیقہ شمار کیا جا سکتا ہے؟(سابقہ سائلین) جواب:عقیقے کے متعلق سنت سے جو چیز ثابت ہے وہ بکری،مینڈھا ہے،جیسا کہ مجلہ الدعوۃ اپریل کے شمارہ نمبر 4،2001ء میں تفصیل سے احادیث صحیحہ رقم کی گئی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گائے،اونٹ وغیرہ بھی موجود تھے لیکن یہ بات ثابت نہیں کہ آپ نے عقیقے کے لئے یہ جانور ذبح کئے ہوں یا اس میں حصے ڈالنے کے بارے میں کچھ بتایا ہو،لہذا جو چیز مسنون ہے اس پر اکتفا کریں۔ قربانی کا جانور ذبح کرنا سوال:قربانی کا جانور خود ذبح کرنا بہتر ہے یا کہ دوسرے آدمی سے ذبح کروانا،نیز کیا عورت بھی قربانی کا جانور ذبح کر سکتی ہے؟ جواب:قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل و بہتر ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ذبح کیا کرتے تھے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھا پکڑا،پھر اسے لٹا کر ذبح کیا۔ (ابوداؤد 2792 صحیح مسلم،مسند احمد 6/78) اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کو ذبح کرنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے یہ بھی بیان فرمایا کہ آپ نے دونوں جانوروں کو اپنے