کتاب: تفہیم دین - صفحہ 248
رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کی رات ہے اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور نصف شعبان کی رات،اس کی فضیلت اور لوگوں کی تقدیر نقل کرنے کے بارے کوئی قابل اعتماد روایت نہیں اس کی طرف التفات نہ کرو۔(ملاحظہ ہو احکام القرآن 4/1690) شیخ محمد عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ نے"السنن والمبتدعات"ص 102 میں ذکر کیا ہے کہ سورۃ الدخان میں ہر حکمت والے معاملہ کے فیصلے کا جو ذکر ہے یہ شب قدر میں ہی ہے جیسا کہ سورۃ القدر میں نزول ملائکہ کا ذکر ہے۔نصف شعبان کی رات میں یہ بات نہیں ہے۔ بہرکیف نصف شعبان کی رات کو شب قدر یا شب براءت یا لیلۃ مبارکہ سمجھنا درست نہیں،شب قدر و براءت رمضان المبارک میں آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے،یہی بات کتاب و سنت سے ثابت ہوتی ہے۔ عورتوں کا گھر میں اعتکاف سوال:نماز ایک عبادت ہے جو کہ عورت گھر میں ادا کر سکتی ہے تو پھر عورت گھر میں اعتکاف کیوں نہیں کر سکتی جبکہ یہ بھی عبادت ہے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مردوں کے لئے کہ"اور نہ ملو اپنی عورتوں سے اور تم اعتکاف کرنے والے ہو مسجدوں میں"۔(ایک سائلہ،فیصل آباد) جواب:ہمارے لئے حجت اللہ کی شریعت ہے اور شریعت قرآن و حدیث کا نام ہے،عبادت کے احکامات وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں،عورت کے لئے گھر میں نماز ادا کرنے کے متعلق شرعی نصوص موجود ہیں جبکہ اعتکاف بیٹھنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں،قرآن حکیم نے بھی اعتکاف کا محل مساجد ذکر کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں مسجد میں بھی اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں۔کسی بھی صحیح دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ عورتوں کے لئے مسجد کی بجائے گھر کو جائے اعتکاف قرار دیا گیا ہو،لہذا ہمیں اپنی طرف سے احکامات گھڑنے کی بجائے شریعت کے نصوص کو دیکھنا چاہیے۔