کتاب: تفہیم دین - صفحہ 242
جائے اعتکاف میں کس وقت داخل ہونا چاہیے سوال:جائے اعتکاف میں کس وقت داخل ہونا چاہیے،اور اعتکاف میں جائز امور کون کون سے ہیں؟(حافظ آصف،شیخوپورہ) جواب:اعتکاف کے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔دوسری حدیث یہ ہے: "سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف بیٹھنے کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے۔" (صحیح مسلم،ابوداؤد 334) ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے عام اہل علم یہ بات لکھتے ہیں کہ آخری عشرہ کا آغاز بیس رمضان کا سورج غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔لہذا معتکف کو چاہیے کہ اکیسویں رات شروع ہوتے ہی مسجد میں آ جائے۔رات بھر تلاوت قرآن،ذکر الٰہی،تسبیح و تہلیل اور نوافل میں مصروف رہے اور صبح نماز فجر ادا کر کے اپنے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جائے۔ جبکہ دوسرا موقف جو ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے کا اعتکاف بیٹھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اعتکاف کا آغاز نماز صبح کے بعد کرتے اکیس یا بیس کی صبح کو اس کا تعین واضح نہیں۔بہتر یہ ہے کہ معتکف بیس رمضان کی فجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کا آغاز کرے تاکہ اکیس کی رات معتکف میں آئے کیونکہ اعتکاف لیلۃ القدر کی تلاش کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر میں دو عشرے اعتکاف کیا۔نہ ملی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے اور آخری عشرے کا اعتکاف کیا تسلسل بھی جاری رکھا حتیٰ کہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کر رہے تھے ان میں سے بعض بیسویں کی صبح اپنا بوریا بستر اٹھا کر گھر میں بھی پہنچا چکے تھے۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ جو میرے ساتھ اعتکاف کر رہا ہے وہ