کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 66
۳۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے روز ہم سے فرمایا: ((أنتم خیر اہل الارض۔)) ’’تم روئے زمین میں سب سے بہتر ہو۔‘‘ اس وقت ہم ایک ہزار چار سو تھے اگر میری بینائی کام کرتی تو میں تمھیں اس درخت کا مقام دکھا دیتا جس کے نیچے بیعت ہوئی تھی۔[1] یہ حدیث اصحاب شجرہ کی فضیلت میں صریح ہے اس وقت مکہ و مدینہ وغیرہ میں مسلمان موجود تھے۔ اس سے بعض شیعہ نے عثمان رضی اللہ عنہ پر علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال کیا ہے بایں طور پر کہ اس وقت علی رضی اللہ عنہ مخاطبین اور ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نہ تھے، لیکن یہ استدلال باطل ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی، لہٰذا عثمان رضی اللہ عنہ اس خیرمیں ان کے مساوی قرار پائے اور حدیث میں بعض کو بعض پر فضیلت دینا مقصود نہیں ہے۔[2] حدیبیہ کے سلسلہ میں محب طبری نے عثمان رضی اللہ عنہ کے چند خصائص کا تذکرہ کیا ہے: ۱۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔ ۲۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام مکہ میں قیدی مسلمانوں تک پہنچایا۔ ۳۔ ترک طواف کے سلسلہ میں ان کی موافقت کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔[3] ۴۔ ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تو لوگوں نے کہا: ابو عبداللہ کو بحالت امن طواف مبارک ہو، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں طواف نہ کروں عثمان طواف نہیں کر سکتے۔[4] یہ اتہام لگا کر لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ پر ظلم ڈھایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت میں شرکت نہیں کی اور غائب رہے۔ ارکان خلافت کو ڈھانے کے لیے فتنہ رچایا گیا اور اس سلسلہ میں جو اتہامات عثمان رضی اللہ عنہ پر باندھے گئے انہی میں سے ایک اتہام یہ بھی ہے۔[5] ان شاء اللہ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔ [1] مسلم: ۳؍۱۴۸۵۔ [2] فتح الباری: ۷؍۴۴۳۔ [3] الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ صفحہ (۴۹۰،۴۹۱) [4] الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ صفحہ (۴۹۱) اس کی سند میں ضعف ہے۔ [5] ذوالنورین مع النبی صلي الله عليه وسلم صفحہ (۳۲)