کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 62
اس میں تنہا نہ تھے آپ کے ساتھ دیگر صحابہ بھی تھے۔[1]اور جب اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف کر دیا تو پھر مسئلہ بالکل واضح ہو گیا کوئی التباس باقی نہیں رہا لہٰذا اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔[2] یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نص قرآنی سے آپ کی معافی کا اعلان کر دیا، آپ کی جہادی زندگی مجموعی طور پر آپ کی شجاعت پر شاہد عدل ہے۔ ۳۔غزوئہ غطفان میں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو غطفان پر چڑھائی کی تیاری کا فرمان جاری کیا۔ چار سو افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ان کے ساتھ چند گھوڑے بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ذوالقصہ مقام پر مسلمانوں نے غطفان کے ایک شخص جبار بن ثعلبہ کو گرفتار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غطفان کی پوری تفصیل سے آگاہ کیا اور بتلایا کہ وہ لوگ آپ سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ آپ کے نکلنے کی خبر سن کر ہی وہ لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا چھپے ہیں۔ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت پیش کی، اس نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کوئی بھی نہ آیا بخیر و عافیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس ہو گئے، اس موقع پر کل گیارہ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔[3] ۴۔غزوئہ ذات الرقاع میں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ غطفان سے ثعلبہ اور أنمار کے لوگ مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار سو صحابہ کو لے کر صراصر پہنچ گئے اور روانگی سے قبل عثمان رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر فرمایا۔ غطفان کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں نکلی لیکن جنگ نہ ہوئی، خوف و ہراس کا عالم رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صلوٰۃ الخوف پڑھائی اور آخرکار واپس ہو گئے، اس موقع پر آپ پندرہ روز مدینہ سے باہر رہے۔[4] ۵۔بیعت الرضوان میں: بیعت رضوان کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر نزول فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ ایک خصوصی سفیر قریش کے پاس روانہ فرمائیں جو ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد و موقف کی [1] الامین ذوالنورین صفحہ (۴۹) [2] ذوالنورین مع النبی صلي الله عليه وسلم ؍ د۔ عاطف لماضۃ صفحہ (۳۲) [3] الروض الأنف: ۳؍۱۳۷۔ الطبقات؍ ابن سعد: (۲؍۳۴،۳۵) [4] الامین ذوالنورین ؍ محمود شاکر صفحہ (۵۲، ۵۳) یہ غزہ ۷ھ میں پیش آیا تھا۔ دیکھیے: زاد المعاد: ۳؍۲۵۰۔۳۵۴۔