کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 55
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا (44) (فاطر: ۴۴) ’’اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حالاں کہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو عاجز کر دے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: ذَلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (102) (الانعام: ۱۰۲) ’’یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ، تو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔‘‘ حقیقت میں قضاء و قدر کے فہم صحیح اور اعتقاد راسخ کے نافع اور مفید ثمرات آپ کی زندگی میں ظاہر ہوئے جس کا ہم اس کتاب میں مشاہدہ کریں گے۔ قرآن کریم کی روشنی میں آپ نے اپنی اور بنی نوع انسان کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا اور یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ انسان کی تخلیق کی حقیقت دو اصلوں سے وابستہ ہے: ایک اصل بعید یعنی مٹی سے پہلی پیدائش جس وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کا ناک و نقشہ درست کیا، اور اس میں روح پھونکی اور دوسری اصل: نطفے سے انسان کی تخلیق۔ ارشاد الٰہی ہے: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (8) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (9) (السجدہ: ۷۔۹) ’’جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی۔ جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی اسی نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو۔‘‘ آپ کو یہ معرفت اچھی طرح حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور اچھی شکل و صورت اور معتدل قامت سے اسے شرف بخشا، عقل، گویائی اور تمیز عطا فرمائی، اور زمین و آسمان کی تمام اشیاء کو اس کے