کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 524
فھلا رعیتم ذمۃ اللّٰه بینکم واوفیتم بالعہد عہد محمد ’’تم نے اپنے مابین اللہ کی پناہ کا خیال کیوں نہیں کیا، اور عہد نبوی کا پاس و لحاظ کیوں نہیں کیا۔‘‘ الم یک فیکم ذا بلاء و مصدق و أوفاکم عہد الدی کل مشہد ’’کیا تم میں کوئی بھی اچھے کارنامے والا، سچا اور ہر موقع پر عہد کو پورا کرنے والا نہیں تھا؟‘‘ فلا ظفرت ایمان قوم تبایعوا علی قتل عثمان الرشید المسدد [1] ’’لوگوں کے وہ ہاتھ برباد ہو جائیں جو ہدایت یافتہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بیعت کیے تھے۔‘‘ نیز فرمایا: من سرہ الموت صرفا لا مزاج لہ فلیات ما سدۃ فی دار عثمانا ’’جسے صرف موت ہی پسند ہو، اسے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود رزمگاہ پہنچنا چاہیے۔‘‘ مستشعری حلق الماذی قد شفعت قبل المخاطم بیض زان ابدانا ’’خالص لوہے کے کڑوں والی دوہری زرہ اوپر سے نیچے تک پہنے ہوئے۔‘‘ صبر افدی لکم أمی وما و لدت قدینفع الصبر فی المکر وہ أحیانا ’’آپ صبر کیجیے، آپ پر میری ماں اور بھائی بہن قربان ہوں، بسا اوقات پریشانیوں میں صبر مفید ہوتا ہے۔‘‘ فقد رضینا باھل الشام نافرۃ وبالأمیر و بالإخوان اخوانا ’’کوچ کرنے والے اہل شام اور ان کے امیر سے میں خوش ہوں اور انہیں بھائی سمجھتا ہوں۔‘‘ إنی لمنھم و ان غابوا و إن شہدوا ما دمت حیا وما سمیت حسانا ’’موجودگی و عدم موجودگی ہر حال میں میں انہی میں سے ہوں، جب تک زندہ ہوں، اور جب تک [1] البدایۃ والنہایۃ (۷؍۲۰۵)