کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 487
إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ (90) (ہود: ۸۹۔۹۰) ’’اے میری قوم ( کے لوگو) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کی مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں۔ تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔‘‘ اما بعد! کچھ لوگ جو اس سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے لوگوں سے یہ ظاہر کیا کہ وہ اللہ کی کتاب اور حق کی طرف دعوت دے رہے ہیں، ان کے پیش نظر دنیا نہیں ہے اور نہ دنیا کے بارے میں کسی سے جھگڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا تو لوگوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا، ان میں کچھ حق کو قبول کرنے والے، اور کچھ ایسے ہیں کہ جب حق انہیں دیا جاتا ہے تو اس سے اعراض کرنے والے ہیں اور کچھ حق کو ترک کرنے والے کچھ اسے چھوڑ دینے والے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اس کو زبردستی بغیر حق کے لے لیں۔ ان کے ساتھ میرا طویل تجربہ ہے، ان کی خواہش امارت و قیادت ہے، انہوں نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی، ان حضرات نے آپ لوگوں کو یہ لکھا کہ وہ لوگ اس عہد کے باعث پلٹ گئے ہیں جو میں نے ان کو دیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں نے جس کا ان سے عہد کیا تھا اس میں سے کوئی چیز چھوڑی ہے، ان کا زعم یہ تھا کہ وہ حدود کو طلب کرنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جس کے بارے میں تمھیں معلوم ہو کہ اس نے کسی کے بارے میں حد کی پامالی کی اس پر حد قائم کرو اور جس نے بھی تم پر ظلم کیا ہے قریب سے یا دور سے، اس پر حد قائم کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب تلاوت کی جائے، میں نے کہا: کاش جو اس کی تلاوت کرے اس میں غلو نہ کرے کہ جو اللہ نے کتاب میں نازل نہیں کیا اس میں شامل کرے۔ انہوں نے کہا: محروم کو روزی دی جائے، مال برابر تقسیم کیا جائے تاکہ سنت حسنہ جاری ہو، خمس میں سے حد سے تجاوز نہ کیا جائے اور نہ زکوٰۃ میں، اور قوت و امانت سے متصف افراد کو امارت دی جائے اور لوگوں کے حقوق انہیں لوٹائے جائیں۔ ان مطالبات پر میں راضی ہوا اور اس پر ڈٹ گیا، میں نے آپ حضرات کو اور اپنے ساتھیوں کو جو مناصب پر تھے فرمان جاری کر دیے لیکن اس کے باوجود ان حضرات نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی اور مجھ سے نماز روک دی میرے اور مسجد کے درمیان حائل ہو گئے اور مدینہ میں جس چیز پر قادر ہوئے زبردستی قبضہ کر لیا۔ میں آپ حضرات کو یہ خط تحریر کر رہا ہوں اور حال یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں نے تین امور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یا تو ہر شخص جس کو مجھ سے تکلیف پہنچی ہے خواہ صحیح ہو یا غلطی سے اس کا وہ ہم سے قصاص لیں گے اس میں سے