کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 473
کے پاس گرم دن میں آیا، آپ اس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس حسن بن علی، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ میں نے آپ کے سامنے عرض کیا: مجھے زبیر بن العوام نے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: ’’میں آپ کی اطاعت میں ہوں، اور میں نے اپنی بیعت کو نہ بدلا ہے اور نہ توڑا ہے، اگر آپ چاہیں تو میں بھی آپ کے پاس گھر میں آجاؤں اور آپ کے پاس موجود افراد میں شامل ہو جاؤں، اور اگر چاہیں تو میں اپنے گھر میں رہوں، مجھ سے بنو عمرو بن عوف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صبح میرے دروازہ پر ہوں گے اور پھر میں جو حکم انہیں دوں گا کر گزریں گے۔‘‘ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ پیغام سنا تو فرمایا: اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے اس نے میرے بھائی کو محفوظ رکھا۔ ان کو سلام پہنچا دو، پھر ان سے کہو کہ تم مجھے زیادہ محبوب ہو اور اللہ سے مجھے امید ہے کہ وہ تمہارے ذریعہ سے اس فتنہ کو دور کر دے۔ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ پیغام پڑھا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا میں تمھیں اس بات کی خبر نہ دے دوں جسے میرے ان دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ لوگوں نے کہا:ضرور بیان کریں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد فتنہ اور ناگفتہ بہ امور رونما ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ اس سے نجات کی جگہ کہاں ہو گی؟ فرمایا: امین اور اس کی جماعت کے ساتھ۔ پھر آپ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ سن کر لوگ کھڑے ہوئے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اب ہمیں بصیرت حاصل ہو گئی، ہمیں آپ ان باغیوں سے جہاد کی اجازت دیں؟ آپ نے فرمایا: میں اس کو تاکید کرتا ہوں جس پر میری اطاعت فرض ہے کہ وہ قتال نہ کرے۔[1] ۳۔مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ : مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ محاصرہ کے دوران عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ امام عام ہیں، اور اس وقت آپ کی جو صورت حال ہے وہ سبھی دیکھ رہے ہیں اس لیے میں آپ کے سامنے تین پیش کش رکھتا ہوں، آپ ان میں سے کوئی ایک قبول فرما لیں: آپ نکلیں اور ان سے قتال کریں، آپ کے ساتھ افراد و قوت موجود ہے، آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں، یا پھر اس دروازہ کے علاوہ جس پر باغی کھڑے ہیں، دوسرا دروازہ کھول کر سواری پر سوار ہو کر مکہ چلے جائیں وہاں یہ لوگ آپ کا خون حلال نہ کر سکیں گے، یا پھر شام چلے جائیں وہاں شامی ہیں وہاں معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ پیش کش سن کر فرمایا: تمہاری پہلی پیش کش کہ میں نکل کر ان سے قتال کروں، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں سب سے پہلا خون بہانے والا نہیں ہو سکتا۔ رہی دوسری پیش کش کہ میں مکہ چلا جاؤں اور [1] فضائل الصحابۃ (۱؍۵۱۱۔۵۱۲) اسنادہ صحیح۔