کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 464
۳۔ امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کو قتل کرنے سے متعلق خط کیسے لکھ سکتے ہیں جب کہ باغیوں کے مصر سے روانہ ہونے کے فوراً بعد خلیفہ کو انہوں نے خط بھیج کر اجازت طلب کی تھی کہ وہ ان کے پاس آنا چاہتے ہیں، اور مصر پر محمد بن ابی حذیفہ نے قبضہ جما لیا تھا، ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل چکے تھے، آپ عریش و فلسطین ہوتے ہوئے عقبہ پہنچ چکے تھے، تو ایسی صورت میں عثمان رضی اللہ عنہ ان کو خط کیسے لکھ سکتے ہیں جب کہ آپ کے پاس ان کا خط موجود تھا جس میں انہوں نے مدینہ آنے کی اجازت طلب کی تھی؟ ۴۔ باغیوں نے جب آپ کا محاصرہ کیا تو آپ نے انہیں قتل کرنے سے منع فرمایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دفاع کرنے سے بھی منع کر دیا، اور اپنے نفس کا دفاع کرنے کے لیے باغیوں سے قتال کا حکم نہیں دیا جیسا کہ ابھی اس کی تفصیل آئے گی، تو بھلا وہ لوگ جب توبہ و انابت ظاہر کرتے ہوئے واپس ہو چکے تھے ان کو قتل کرنے سے متعلق ایسا جعلی خط کیسے لکھ سکتے ہیں؟ ۵۔ باغیوں کے مدینہ سے واپس روانہ ہو جانے کے بعد حکیم بن جبلہ اور اشتر نخعی مدینہ میں رہ گئے تھے۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ انہی دونوں نے یہ خط گھڑا تھا کیوں کہ مدینہ میں ٹھہرنے کی انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی، وہ صرف اسی طرح کے مقاصد کے پیش نظر رکے تھے، انہی دونوں کی اس سے مصلحتیں وابستہ تھیں۔[1] عین ممکن ہے کہ یہ عبداللہ بن سبا کی رہنمائی میں طے پایا ہو کیوں کہ اس خط سے عثمان رضی اللہ عنہ کی کوئی مصلحت وابستہ نہ تھی، اور اسی طرح مروان بن الحکم رضی اللہ عنہ کی بھی کوئی مصلحت اس سے وابستہ نہ تھی جو لوگ اس سلسلہ میں مروان رضی اللہ عنہ کو متہم قرار دیتے ہیں وہ لوگ خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کو غفلت کے ساتھ متہم کرتے ہیں، گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیوان خلافت میں ان کے علم کے بغیر معاملات طے پا جاتے تھے، گویا اس طرح یہ لوگ ان باغی مجرموں کو بری قرار دیتے ہیں، اور پھر اگر مروان رضی اللہ عنہ نے یہ جعلی خط تحریر کیا ہوتا تو خط لے جانے والے کو یہ حکم دیتے کہ وہ باغیوں کے قافلہ سے بالکل دور رہے تاکہ وہ اس کو پکڑ نہ سکیں، ورنہ یہ ثابت ہو گا کہ وہ بھی باغیوں کے ساتھ شریک تھے اور یہ امر محال ہے۔ ۶۔ یہ منحوس خط پہلا خط نہ تھا جس کو ان مجرمین نے گھڑا تھا بلکہ اس سے قبل بہت سے جعلی خطوط امہات المومنین کے ناموں سے گھڑے اور اسی طرح علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم کے ناموں سے گھڑے، عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا کہ انہوں نے لوگوں کے نام خطوط بھیج کر انہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے پر ابھارا ہے۔ ام المومنین اس کی نفی کرتی ہیں اور فرماتی ہیں: اس رب کی قسم! جس پر مومن ایمان رکھتے ہیں اور کافر کفر کرتے ہیں میں نے ایسی کوئی تحریر اب تک نہیں لکھی ہے۔[2] [1] عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر ص (۲۷۷) [2] تحقیق مواقف الصحابۃ (۱؍۳۳۴)