کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 451
پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ہوں اور نہ میں اپنے نفس کو ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ کی قسم! فتنہ کی چکی چلنے والی ہے۔ عثمان کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ مر گیا اور اس کو حرکت نہ دی، لوگوں کے ساتھ نرمی کرو، ان کے حقوق انہیں دو اور انہیں معاف کرو، اور جب اللہ کے حقوق پامال ہوں تو مداہنت نہ برتو۔[1] عثمان رضی اللہ عنہ نے سختی اختیار کرنے کے سلسلہ میں اپنے بھائی عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی رائے کی مخالفت ضرور کی، لیکن صاحبین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے طریقہ کی اتباع کی، مخالفت نہ کی۔ فتنہ کی چکی چلنے والی ہے، اور امیر المومنین کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ وہ اس چکی کو چلانے والے بنیں، اس لیے فرمایا: ’’عثمان کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ مر گیا اور اس کو حرکت نہ دی‘‘ آپ بالکل واضح اور صریح تھے، جس چیز میں کوئی نرمی نہیں وہ اللہ کی حدود ہیں، اس میں کسی طرح کی مداہنت روا نہیں، اور اس کے علاوہ امور میں تورفق و نرمی بہتر اور مغفرت و درگزر افضل ہے، اور تمام حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔[2] ضعیف اور مجہول راویوں کی سند سے ایسی روایات بیان ہوتی ہیں جو امیر المومنین عثمان اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے تعلقات کو مسخ کرتی ہیں، یہ ناقابل اعتماد روایات عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی صورت کو مسخ کرتی ہیں۔ یہ روایات عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں کہ انہوں نے امیر المومنین کے قتل کا منصوبہ بنایا پھر وہی خون کا مطالبہ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔[3] یہ روایات مؤرخین اور محدثین دونوں کے نزدیک ضعیف اور ناقابل قبول ہیں۔[4]ضعیف اور مجہول راویوں کی ایک روایت میں ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں پر بنو امیہ کی طرح سوار ہو گئے۔ آپ نے کہا اور انہوں نے کہا، آپ بھٹکے اور وہ بھٹکے۔ سیدھے رہیے یا پھر الگ ہو جایئے۔ اگر اس کو نہیں مانتے تو عزم کیجیے اور آگے بڑھیے۔[5] اور اسی روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے ہے کہ آپ ان کو جنگوں میں جھونک دیں یہاں تک کہ لوگوں کو سر کھجانے کا بھی موقع نہ ملے اور آپ کے خلاف افواہ پھیلانے سے مشغول کر دیجیے۔[6] عثمان رضی اللہ عنہ نے فتنہ و فساد برپا کرنے والوں پر سختی کرنے اور انہیں قید یا قتل کرنے سے منع کر دیا نیز ان کے ساتھ بھلائی اور نرمی کا معاملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔[7] اور اپنے گورنروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اعمال پر واپس چلے [1] تاریخ الطبری (۵؍۳۵۱) [2] عمرو بن العاص الامیر المجاہد؍ الغضبان ص (۴۴۷) [3] عمرو بن العاص الامیر المجاہد؍ الغضبان ص (۴۴۸) [4] عمرو بن العاص الامیر المجاہد؍ الغضبان ص (۴۴۸) [5] تاریخ الطبری (۵؍۳۴۰) [6] ایضاً [7] خلافۃ عثمان؍ د۔ السلمی ص (۷۷)