کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 428
سعید رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کی ان توجیہات و تعلیمات کی تنفیذ کی، اور اپنی کارکردگی سے خلیفہ کو باخبر کیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں اہل حل و عقد کو جمع کیا اور انہیں کوفہ کی صورت حال اور وہاں فتنہ و فساد کے جڑ پکڑنے اور اس سے مقابلہ کے لیے سعید رضی اللہ عنہ کی کارروائی کی اطلاع دی۔ لوگوں نے آپ کی تائید کرتے ہوئے کہا: آپ نے جو کچھ کیا اچھا کیا، آپ فسادیوں کی کوئی مدد نہ کریں، لوگوں پر انہیں مقدم نہ کریں، اور جس منصب کے وہ اہل نہیں وہ منصب انہیں نہ دیں، کیوں کہ جو شخص جس منصب کا اہل نہیں اگر وہ منصب اسے مل گیا تو وہ اسے قائم نہیں کر سکتا، اسے برباد کر دے گا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے مدینہ والو! لوگ فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے حرکت میں آچکے ہیں، ان سے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاؤ اور حق کو مضبوطی سے تھام لو، میں اس کی خبریں اوّل بہ اوّل آپ لوگوں کو دیتا رہوں گا۔[1] اصلاحی کارروائیوں سے باطل پرستوں کا اذیت محسوس کرنا: فسادی اور اجڈ بدو، اہل سبقت و جہاد اور علم و تقویٰ کے حاملین کو مجلس و ریاست اور مشورہ میں مقدم رکھنے میں اذیت محسوس کرنے لگے، اور گورنران و افسران پر اس کی وجہ سے عیب لگانا شروع کیا، اور اس کارروائی کی تمییز و ترجیح اور اپنے حق میں بے توجہی اور حق تلفی سمجھا، فسادی حاقدین نے یہ چیز ان کے دلوں میں بٹھائی اور ان کے اندر خلیفہ اور حکومت کی ناپسندیدگی اور والی کوفہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی اصلاحی کارروائیوں کے عدم قبول کا بیج بویا۔ کوفہ کے عوام نے ان حاقدین فسادیوں کی بات نہ مانی جس کی وجہ سے ان لوگوں نے سکوت اختیار کیا، اور اپنے شبہات کو چھپانے لگے، اس کو ظاہر کرنے سے رک گئے، کیوں کہ مسلمانوں کی اکثریت اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی، لیکن خفیہ طور پر اسے اپنے ہم نوابدوؤں، فسادیوں اور مغرور و سزا یافتہ لوگوں تک پہنچاتے رہے۔[2] اعدائے اسلام یہود و نصاریٰ اور مجوسی، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے، خلیفہ اور گورنران و افسران کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہے، اور بعض افسران سے جو بعض غلطیاں صادر ہوتیں انہیں لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانے کے لیے استعمال کرتے، اور مزید افتراء اور جعل سازی کا اضافہ کرتے، اس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کے درمیان فساد اور لاقانونیت کو پھیلانا چاہتے، اور ان کے درمیان افتراق و اختلافات کو ہوا دیتے تاکہ اس طرح اسلام کے خلاف ان کے غم و غصہ کو غذا ملے جس نے ان کے ادیان باطلہ کو ختم کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامی نظام حکومت کا انہدام ہو جس نے ان کی سلطنت کا خاتمہ کیا اور ان کے لشکر کو تباہ کیا۔ ان اعداء اسلام نے اپنے مقاصد و عزائم کی تکمیل کے لیے فسادیوں، سادہ لوح اور ابلہ قسم کے لوگوں کو [1] تاریخ الطبری (۵؍۲۸۱) [2] الخلفاء الراشدون؍ الخالدی ص (۱۴)