کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 377
سیرین رحمہ اللہ سے جب کہا جاتاکہ عثمان رضی اللہ عنہ نے تو ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا تھا تو یہ سن کر آپ کی حالت خراب ہو جاتی، اور فرماتے: آپ خود نکل گئے تھے، عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو نہیں نکالا تھا۔[1] اور جیسا کہ صحیح روایت گزر چکی ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے جب کثرت سے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ کو فتنہ کا خطرہ محسوس ہوا، اور آپ نے اس کا ذکر عثمان رضی اللہ عنہ سے مدینہ سے باہر سکونت اختیار کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر چاہیں تو مدینہ سے قریب ہی میں کہیں سکونت اختیار کر لیں۔[2] ابوذر رضی اللہ عنہ کی ابن سبا سے متاثر ہونے کی تردید: سعید افغانی نے اپنی کتاب ’’عائشہ اور سیاست‘‘ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت فتنہ کے سلسلہ میں ابن سبا کے کردار کو بڑی شکل دی ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی جنگوں، سازشوں اور فتنوں کو اس کی طرف منسوب کیا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ اس ٹھوس سازش کے پیچھے ماہر شیاطین نے شب و روز ایک کیے اور منظم منصوبہ بندی کی، یہاں تک کہ اس کے آثار تمام اطراف و جوانب میں ظاہر ہوئے، اسی لیے یہ عنوان قائم کیا: ’’ ابن سبا البطل الخفی المخیف۔‘‘ [3] (ابن سبا خوفناک پوشیدہ ہیرو) پھر سعید افغانی نے ابن سبا کی شخصیت کو خوب بڑھا کر پیش کیا چنانچہ اس کو انتہائی درجہ کا ذہین و فطین، بعد نظر اور وسیع حیلہ کا مالک اور لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہونے والا قرار دیتے ہیں۔[4] انہوں نے اس کو خفیہ تلمودی تنظیم کا سر گرم رکن قرار دیا ہے، جس کا مقصد اسلامی سلطنت کو تباہ کرنا تھا۔[5] اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ابن سبا رومی سلطنت کے لیے کام رہا تھا جس سے مسلمانوں نے قریبی زمانہ میں مصر و شام جیسے اہم علاقے اور بحر متوسط کے دیگر دوسرے علاقوں کو چھین لیا تھا، وہ مختلف دینی، سیاسی اور جنگی میدانوں میں ابن سبا کی سر گرمی تعجب خیز قرار دیتے ہیں۔[6] سعید افغانی کی رائے یہ ہے کہ ابن سبا، ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات میں کامیاب رہا، چوں کہ وہ لوگوں کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے اپنی منظم سراغ رسانی کے ذرائع کی بدولت ابوذر رضی اللہ عنہ پر اثر انداز ہوا۔[7] لیکن ان کا یہ زعم باطل ہے اور مختلف وجوہ کی بنا پر اس کا صحت سے کوئی تعلق نہیں: [1] تاریخ المدینۃ (۱۰۳۷) اسنادہ صحیح [2] البخاری، الزکاۃ (۱۴۰۶) [3] عائشۃ والسیاسۃ ؍سعید افغانی ص (۶۰) [4] ایضاً [5] ایضاً [6] ایضاً [7] ایضاً