کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 366
بالعزیز الرحیم‘‘ لکھا تھا۔[1] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ولید اور مروان بن الحکم کی مذمت میں جتنی احادیث بیان کی جاتی، سب جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔[2] کیا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے حساب پر کسی قرابت دار سے مجاملت کی؟ اگر عثمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے حساب پر اپنے قرابت داروں سے مجاملت کرنا چاہتے تو اپنے پروردہ محمد بن ابی حذیفہ کے ساتھ ضرور مجاملت کرتے، لیکن آپ نے ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو عامل نہیں مقرر کیا، کیوں کہ وہ اس منصب کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا: میرے بیٹے اگر تم اس قابل ہوتے تو ضرور میں تمھیں یہ منصب عطا کرتا، لیکن تم اس قابل نہیں ہو۔[3] آپ کا یہ برتائو کسی کراہیت اور ناپسندیدگی و نفرت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ جب انہوں نے مصر جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو سازو سامان سے تیار کر کے روانہ فرمایا، اگر نفرت و کراہیت کی بات ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتے۔[4] اور رہا نوجوانوں کو مناصب عطا کرنے کا مسئلہ تو اس سلسلہ میں آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں روم پر چڑھائی کے لیے جو لشکر تشکیل دیا اس کا سپہ سالار اعظم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مقرر فرمایا۔[5] اور جب لشکر روانہ ہونے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو روانہ کرنے کا عزم کر لیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ خواہش ہوئی کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی جگہ کسی تجربہ کار کو سپہ سالار بنا دیا جائے، اور اس سلسلہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی گئی کہ وہ جا کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ پیش کش رکھیں، لیکن جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات رکھی گئی تو آپ غضب ناک ہو گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عمر! جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سپہ سالار مقرر فرمایا، تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اسے اس منصب سے معزول کر کے دوسرے کو مقرر کر دوں؟[6] اور یہی جواب عثمان رضی اللہ عنہ نے اس طرح کے اعتراضات پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دیا تھاکہ میں نے باصلاحیت، عاقل و بالغ اور پسندیدہ لوگوں کو عامل و گورنر مقرر کیا ہے، یہ ان کے ماتحت اور ان شہروں کے رہنے والے ہیں، ان سے ان کے بارے میں دریافت کر لیں، مجھ سے پہلے ان سے کم عمروالوں کو یہ مناصب دیے گئے [1] البدایۃ والنہایۃ (۸؍۲۶۲) [2] المنار المنیف ص (۱۱۷) فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب ص (۷۷) [3] تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ (۱؍۲۴۷) [4] تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ (۱؍۲۴۷) تاریخ الطبری (۵؍۴۱۶) [5] تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ (۱؍۲۴۷) تاریخ الطبری (۵؍۴۱۶) [6] تاریخ الطبری (۵؍۴۶)