کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 364
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مروان منصب قضاء پر فائز تھے، اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو تلاش کرتے تھے۔‘‘[1] مروان رضی اللہ عنہ قرآن کے بہت بڑے قاری و حافظ تھے۔ احادیث نبویہ کو روایت کرتے، بعض مشاہیر صحابہ رضی اللہ عنہم سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں، اور بعض صحابہ نے آپ سے روایت کی ہے اور اسی طرح بعض تابعین نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔[2] آپ سنت کو تلاش کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بڑے شوقین تھے۔ فقیہ مصر لیث بن سعد رحمہ اللہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ مروان رضی اللہ عنہ ایک جنازہ میں شریک ہوئے اور جب نماز جنازہ پڑھ کر واپس ہوئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے ایک قیراط نیکی حاصل کر لی، اور دوسرے قیراط سے محروم رہ گئے۔[3] مروان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی گئی تو وہ دوڑے ہوئے واپس ہوئے یہاں تک کہ دوڑنے کی وجہ سے آپ کے گھٹنے کھل گئے، اور پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ اجازت مل گئی۔[4] فتح الباری کے مقدمہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مروان بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ، عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت کا شرف حاصل ہے، پس اگر یہ ثابت ہے تو پھر جن لوگوں نے ان پر کلام کیا ہے ان کا اعتبار نہیں۔[5] (عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: روایت حدیث میں ان پر کوئی کلام نہیں۔[6])علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بہت سے لوگوں کے نزدیک صحابی ہیں، کیوں کہ آپ کی ولادت حیات نبوی میں ہوئی۔[7] معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے، فساق و فجار کے لیے آپ بہت سخت تھے۔ عیش پرستی کے مظاہر اور ہجڑاپن کے شدید مخالف تھے۔[8] رعیت کے ساتھ عدل و انصاف کرنے والے، قرابت داروں اور اثر و رسوخ کا استیصال کرنے والوں کی مجاملت سے انتہائی احتیاط برتنے والے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے بھائی عبدالرحمن بن الحکم نے اہل مدینہ کے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا، اس نے مروان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی، جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے، آپ نے اپنے بھائی عبدالرحمن کو طلب کیا اور اس غلام کے سامنے بٹھایا اور اس سے کہا: اس کو طمانچہ لگائو، اس غلام نے کہا: میرا یہ مقصود نہ تھا بلکہ [1] البدایۃ والنہایۃ (۸؍۲۶۰) [2] ایضاً [3] البدایۃ والنہایۃ (۸؍۲۶۰)، المسند (۴۴۵۳۔۴۶۵۰) [4] الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا، ص (۲۰۰)، البدایۃ والنہایۃ (۸؍۲۶۰) [5] مقدمۃ فتح الباری (۴۶۶) اباطیل یجب ان تمحی من التاریخ ص (۲۵۴) [6] مقدمۃ فتح الباری ص (۴۶۶) [7] البدایۃ والنہایۃ (۸؍۲۵۹) بلکہ وفات نبوی کے وقت آپ کی عمر کم از کم آٹھ سال تھی۔ (مترجم) [8] الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا ص (۲۰۰)