کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 351
اسلامی تاریخ کے عظیم ترین قاضی اور علم و فضل میں یکتا تابعی جلیل امام شعبی رحمہ اللہ نے دی ہے۔[1] آپ کی جہادی مہم اور امارت کی تعریف کرتے ہوئے اس وقت فرمایا جب آپ کے سامنے مسلمہ بن عبدالملک[2] کی جہادی کارروائیوں کا تذکرہ چھیڑا گیا: ’’اگر تم ولید رضی اللہ عنہ کی امارت اور غزوات کو پاتے تو کیا کہتے! وہ تو جہاد کرتے ہوئے اتنی اتنی دور چلے جاتے تھے، اور آپ کے لشکر کو کوئی جانی نقصان نہ ہوتا، اور نہ کوئی بد عہدی کرتا، آپ کی یہی کیفیت رہی یہاں تک کہ آپ معزول کر دیے گئے۔‘‘[3] لوگ آپ سے بے حد محبت کرتے تھے لوگوں کے نردیک آپ انتہائی محبوب ترین تھے، اور آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی نرمی کا برتائو کرتے تھے۔ کوفہ پر پانچ سال گورنر رہے لیکن اپنے گھر پر دروازہ نہیں لگایا۔[4] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ سے متعلق فرمایا: میں نے ولید کو اس لیے گورنر نہیں بنایا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے، بلکہ اس لیے اس کو اس منصب کے لیے منتخب کیا ہے کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب کا نواسہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی توأم تھیں، اور ولایت اجتہادی امر ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص جیسی شخصیت کو معزول کر کے ان سے کم درجہ والے کو اس منصب پر فائز کیا تھا۔[5] جو بھی اسلام کے اس بطل عظیم اور صحابی جلیل کی سیرت کا مطالعہ کرے گا جو تینوں خلفائے راشدین کے نزدیک معتمد علیہ تھے اس کو اس سلسلہ میں ادنیٰ شک بھی نہیں رہے گا کہ آپ ولایت و امارت کے اہل تھے، بلکہ اسے ان روایات کے ثبوت میں شکوک و شبہات لاحق ہوں گے جو اس آیت کی شان نزول میں وارد ہوئیں جس میں آپ کو فاسق کہا گیا ہے، اور اسی طرح شراب نوشی سے متعلق بھی شکو ک و شبہات کا شکار ہو گا۔ یہ مسئلہ تحقیق طلب ہے ان دونوں امور سے متعلق تفصیل ملاحظہ فرمائیں: [6] ٭ ارشاد الٰہی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (6) (الحجرات: ۶) ’’اے مومنو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذاء پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھائو۔‘‘ کیا یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے ایک قصہ بیان [1] فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب ص (۷۸) [2] مسلمہ بن عبدالملک بن مروان فاتحین اسلام میں ایک عظیم جرنیل گزرے ان کی وفات ۱۲۰ھ میں ہوئی۔ [3] التمہید والبیان ص (۴۰) [4] تاریخ الطبری (۵؍۲۵۱) [5] العواصم من القواصم ص (۸۶) [6] فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب ص (۷۹)