کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 336
جاتے تھے۔ بچوں کي تعلیم اور جہادي تربیت: …خلفائے راشدین نے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بھر پور اہتمام کیا، تاکہ یہ تعلیم و تربیت ان کی آئندہ کی جہادی زندگی میں کار آمد ثابت ہو۔ لشکر کے رجسٹروں کا جائزہ لینا: …لشکر کے رجسٹروں کے اہتمام کے سلسلہ میں عثمان رضی اللہ عنہ نے فاروقی سیاست کے طریقہ کو اختیار کیا۔ آپ صوبہ کے رجسٹروں کا خصوصی اہتمام فرماتے، کیوں کہ آپ کو یقین تھا کہ صوبہ کے لوگوں کو اندراج میں لانے کی زیادہ ضرورت ہے، خاص کر وہ صوبہ جو اعداء سے قریب تھے کیوں کہ ان صوبوں کو لشکر کی برابر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔ ان رجسٹروں کے لیے خصوصی ذمہ داران کی تقرری کے باوجود گورنر براہ راست ذمہ دار ہوتا، کیوں کہ یہ گورنر سپہ سالار بھی ہوتے تھے، اس لیے ان کے صوبوں میں رجسٹروں کی ذمہ داری خلیفہ کی طرح ہوتی تھی کیوں کہ یہ خلیفہ کے نائب ہوتے تھے۔[1] معاہدوں کی تنفیذ: خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی فتوحات کے نتیجہ میں دشمنوں کے ساتھ خط و کتابت، اور مسلمانوں اور مفتوحہ ممالک کے لوگوں کے مابین معاہدہ اور مصالحت کی ضرورت پڑتی رہتی تھی، اور گورنر ہی اسلامی لشکر کی قیادت کرتے تھے، اس لیے وہی ان امور کے ذمہ دار ہوتے، معاہدے وہی طے کرتے اور ان کی تنفیذ انہی کی ذمہ داری ہوتی۔[2] لوگوں کے لیے راشن کا تحفظ: خلفائے راشدین نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت ہی سے بیت المال کے مختلف ذرائع سے مسلمانوں میں راشن اور عطیات کی تقسیم کا نیا طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ آغاز میں اس کے لیے کوئی وقت متعین نہیں تھا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مختلف صوبوں میں رجسٹر تیار کیے جانے کے بعد تبدیلی آئی، اور راشن اور عطیات کی تقسیم نے منظم گشتی شکل اختیار کر لی۔ عثمان رضی اللہ عنہ اس پر قائم رہے۔ عہد راشدی میں خلفائے راشدین اور ان کے گورنروں نے صرف راشن کے تحفظ اور بازار کی نگرانی پر اکتفانہ کیا بلکہ مکانات کی تقسیم بھی گورنروں کی ذمہ داری میں شامل کر دی، اسی طرح مفتوحہ شہروں میں امرائے لشکر ہی گھروں کی تقسیم کی نگرانی کرتے۔[3] عمال اور ملازمین کی تقرری: صوبہ کے تابع پوسٹوں پر عمال اور ملازمین کی تقرری اکثر اوقات گورنر کی ذمہ داری میں شامل ہوتی، کیوں کہ صوبہ مرکزی شہر اور دیگر شہروں اور علاقوں پر مشتمل ہوتا، اس کے مختلف انتظامی امور کی ضرورت ہوتی، لہٰذا گورنر [1] الولایۃ علی البلدان (۲؍۷۵) [2] الولایۃ علی البلدان (۲؍۷۷) [3] الولایۃ علی البلدان (۲؍۷۹)