کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 316
بصرہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بصرہ کے گورنر ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ اس وقت بصری معاشرہ کی آباد کاری اور وہاں کی اجماعی ساخت میں اساسی تغیرات رونما ہو چکے تھے۔ چنانچہ بصرہ اسلامی فوجی کیمپوں میں شمار ہونے لگا تھا، بہت سے قبائل نقل مکانی کر کے وہاں آباد ہو چکے تھے۔ یہاں کے اسلامی لشکر نے بہت سے علاقے کو فتح کر لیا تھا، جس کے نتیجہ میں عہد عثمانی کے آغاز میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی تھی۔[1] لوگ امور عامہ اور جہاد وغیرہ کے ساتھ ساتھ اپنے خاص امور میں مشغول ہو چکے تھے اور اس صورت حال میں اس علاقے اور اس کے تابع علاقوں پر ولایت و گورنری انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور وہ آسان نہ تھی، اس صوبہ کے انتظام و انصرام کے لیے خصوصی فہم و فراست کی ضرورت تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس صوبہ کے انتظام و انصرام سے متعلق ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قدرت خاصہ کو محسوس کر رہے تھے جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو یہ وصیت کی تھی کہ آپ کی وفات کے بعد ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو چار سال تک ان کے عہدہ پر باقی رکھا جائے ۔[2] ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بصرہ پر دورِ ولایت، جہاد اور مسلح جدوجہد کا دور رہا، اس میں اہل بصرہ کا کردار نمایاں ہوا، اور اسی طرح فارس کے بہت سے علاقے کو فتح کر کے اور مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کے قدم مضبوط کر کے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی طرح جن علاقوں میں لوگوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد روگردانی شروع کر دی تھی ان علاقوں پر چڑھائی کر کے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسلام کو مستحکم کیا۔[3] فتوحات کے ساتھ ساتھ عہد عثمانی میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی گورنری کے دور میں بصرہ کے اندر آب پاشی کی تنظیم اور نہروں وغیرہ کی کھدائی کا اہتمام کیا، اور پینے کا پانی نہر کے ذریعہ سے بصرہ پہنچایا، بعد میں جس سے لوگوں نے استفادہ کیا اور اسی طرح آپ دوسری نہروں کی کھدائی شروع کر چکے تھے لیکن معزولی کی وجہ سے اس کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔[4] آپ کے بعد آنے والے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اس کی تکمیل فرمائی۔[5] ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ طویل عرصہ تک بصرہ کے گورنر نہ رہ سکے، عثمان رضی اللہ عنہ نے اکثر روایات کے مطابق آپ کو ۲۹ھ میں معزول کر دیا اور آپ کی جگہ عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ [6] کو وہاں کا گورنر مقرر فرمایا، مؤرخین نے [1] التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی البصرۃ؍ صالح العلی ص (۱۴۱) [2] سیر اعلام النبلاء (۲؍۳۹۱)، الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۸۶) [3] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۸۷) [4] ایضاً [5] ایضاً (۱؍۱۷۷) [6] تاریخ الطبری (۵؍۲۶۴)