کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 314
دراندازی کی اور ہر جگہ فتح و نصرت نے آپ کے قدم چومے البتہ شاہ خزر کے ساتھ عظیم معرکہ پیش آگیا جس میں دشمن کی تعداد تین لاکھ تھی اور اسلامی فوج صرف دس ہزار تھی، اس معرکہ میں سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ وہ آرمینیہ کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں، چنانچہ وہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے اور یکے بعد دیگرے مختلف علاقے فتح کرتے ہوئے آگے بڑھے، وہاں مسلمانوں کو ثابت قدمی حاصل ہوئی اور وہاں کے لوگوں سے بعض معاہدے بھی کیے۔[1]پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے مناسب سمجھا کہ انہیں الجزیرہ کی سرحدوں پر روانہ کریں کیوں کہ آپ کو وہاں کا اچھا تجربہ تھا اور آپ کو اس پر قدرت حاصل تھی، اور آپ کی جگہ آرمینیہ پر حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا جو پہلے سے آذربیجان کے گورنر تھے، اس طرح آرمینیہ بھی ان کے زیر اقتدار آگیا، اور آپ نے آرمینیہ سے خزر کے علاقہ میں متعدد غزوات کیے۔[2] تقریباً ایک سال کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو معزول کر دیا، اور آرمینیہ کا گورنر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، اس طرح آپ (عثمان رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے وقت وہ آذربیجان اور آرمینیہ کے گورنر تھے۔[3]یہ صوبہ نیا اضافہ شمار کیا جاتا ہے جس کا اضافہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اسلامی سلطنت میں فرمایا تھا، آپ سے قبل یہ فتح نہیں ہوا تھا اس کو فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسی طرح بڑی مشکلات کے بعد مسلمانوں نے اس پر کنٹرول حاصل کیا، اور اس کے انتظام و انصرام کو سنبھالا اور امن و استقرار بحال کیا۔[4] مصر: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مصر کے گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، جنھوں نے تقریباً چار سال تک مصر پر حکومت کی۔[5] عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت بھی آپ ہی مصر کے گورنر تھے، عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کی ابتداء میں ایک عرصہ تک ان کو ان کے عہدہ پر باقی رکھا اور مصر کے بعض علاقوں میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ آپ کے معاون کی حیثیت سے تھے،[6]جو فلسطین کی فتوحات کے وقت ہی سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اور آپ کے جرنیلوں میں سے ایک تھے اور مصر کی فتح میں آپ کے ساتھ شریک رہے۔[7] اور صعید مصر کی فتح کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو اس کے بعض علاقوں پر متعین فرما دیا تھا۔[8] بظاہر [1] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۷) [2] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۷) [3] تاریخ الیعقوبی (۲؍۱۶۸) الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۷) [4] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۷) [5] النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ، د۔جمال الدین بردي (۱؍۷۷) [6] سیر اعلام النبلاء (۱؍۳۳) [7] ایضاً [8] ولاۃ مصر؍ الکندی ، ص (۳۳)، فتوح مصر و اخبارہا، ص (۱۷۳)