کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 311
تعاون کی توثیق ان الفاظ میں کی ہے: ’’ خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس وقت جب کہ بصرہ فارس اور جنوبی ایران کی فتوحات کا فوجی مرکز قرار پایا، بحرین کو بصرہ کے ساتھ ملحق کر دیا گیا، بحرین کے گورنر امیر بصرہ کے تابع ہوتے تھے، اس سے بحرین سے بصرہ کا تعلق انتہائی مضبوط ہوا۔‘‘[1] عہد عثمانی میں بحرین کے گورنروں میں سے مروان بن حکم اور عبداللہ بن سوار العبدی تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت بحرین کے گورنر عبداللہ بن سوار العبدی ہی تھے۔[2] عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مشرقی فارس کی فتوحات کے لیے افواج کو روانہ کرنے میں بحرین کا بہت بڑا کردار رہا ہے، اور اسی طرح بحرین کے گورنر عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ کا ان فتوحات میں اہم رول رہا ہے۔[3] عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات تک بحرین کے اندر استقرار اور اس کی فضا پر سکون رہی۔ یمامہ عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بڑی حد تک بحرین و عمان کے تابع تھا بلکہ بحرین کا گورنر ہی بسا اوقات یمامہ کے امراء کی تعیین کرتا تھا، البتہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ خود ہی وہاں کے گورنر کی تعیین کرتے تھے، اس کا ذکر عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جو فتنہ رونما ہوا اس کے واقعات میں آیا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے جو لوگ غضب ناک ہوئے ان کی طرف سے یمامہ کے گورنر کو بھی خطوط موصول ہوئے تھے۔[4] یمن و حضر موت: عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یمن کے گورنر یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ تھے جو عمر رضی اللہ عنہما کی طلب پر مدینہ جا رہے تھے اور راستہ ہی میں انہیں عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان نامہ ملا جس میں عمر رضی اللہ عنہ کی وفات اور عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت خلافت اور صنعاء پر علی رضی اللہ عنہ کی بحیثیت گورنر کے تقرری کی خبر تھی، چنانچہ یہ عثمان رضی اللہ عنہما کی وفات تک صنعاء کے گورنر رہے۔[5] اور شہر ’’جند‘‘ پر عبداللہ بن ربیعہ گورنر تھے، یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پورے دور خلافت میں وہاں کے گورنر رہے۔[6] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یمن کے دوسرے شہروں پر بھی آپ کے گورنر مقرر تھے لیکن مرکزی اور اہم مراجع میں صرف انہی دونوں گورنروں کا اکثر ذکر آیا ہے، اور اسی طرح مراجع کے اندر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یمن کے حالات و واقعات کی تفصیل مذکور نہیں، اور اسی طرح ان مراجع و مصادر کے اندر عثمان رضی اللہ عنہ اور یمن کے [1] البحرین فی صدر الاسلام؍ عبدالرحمن بن النجم ص (۱۴۱) [2] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۰) [3] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۰) [4] الولایۃ علی البلدان (۱؍۱۷۰) [5] تاریخ الطبری (۵؍۴۴۲) [6] تاریخ خلیفۃ بن خیاط ص (۱۷۹)