کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 304
نہیں، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یہاں ان آیات کے فہم و بصیرت کی گہرائی عہد عثمانی میں جمع قرآن کے واقعہ سے عیاں ہے۔ چنانچہ یہ ان آیات کے فہم کی گہرائی ہی تھی کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قراء ت قرآن کے اندر اختلاف سنا تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا، اور فوراً مدینہ روانہ ہو گئے، اور خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جو کچھ سنا اور دیکھا تھا اس کی اطلاع دی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فوراً لوگوں کو خطاب فرمایا، اور اس اختلاف کی سنگینی سے آگاہ کیا، اور اس کے حل کے لیے مشورے طلب کیے، اور مختصر سی مدت میں اس فتنہ کے دروازے کو جو کھلنے والا تھا بند کر دیا، اس سے مسلمانوں کو خوشی و مسرت حاصل ہوئی اور منافقین کو بڑا غصہ آیا جو شدت سے اس انتظار میں تھے کہ یہ اختلاف طول پکڑے اور ان کی دیرینہ امیدیں بر آئیں، اور جب اختلاف کا سدباب ہو گیا تو ان کی تمناؤں پر پانی پھر گیا، فتنہ برپا کرنے کا کوئی راستہ ان کو نہ مل سکا بعد ازاں عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا بغض و عناد بڑھ گیا، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے لگے اور ان کے حسنات کی تصویر کشی سیئات کی شکل میں کیا، اور اس کے اثبات کے لیے مکڑی کے جالوں کا سہارا لیا تاکہ آپ پر طعن و تشنیع کر سکیں، اور اس طرح خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کا جواز فراہم کیا۔ لوگوں کو یہ باور کرایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کام کر ڈالا ہے جو ان کے خلاف بغاوت کو واجب ٹھہراتا ہے۔[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر قاری کو اس کی صحیح قراء ت پر نہیں چھوڑا بلکہ ان کو ایک قراء ت [2]پر جمع کیا، جس کی وجہ سے ان میں وحدت قائم ہوئی اور اتفاق و اتحاد برپا ہوا، یہ ایک عظیم درس ہے جو ہمیں خلفائے راشدین کی تاریخ کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے، جو دروس و عبر اور اسوہ و نمونہ سے پر ہے۔3[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((ان اللّٰہ یرضی لکم ثلاثا: ان تعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا، وان تعتصموا بحبل اللّٰه جمیعا ولا تفرقوا، و ان تناصحوا من ولاہ اللّٰه امرکم۔))[4] ’’اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں تین چیزیں پسند کرتا ہے: تم اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو، اختلاف نہ کرو اور جس کو اللہ تعالیٰ تمہارا حاکم و والی بنائے اس کے ساتھ خیر خواہی کرو۔‘‘ [1] فتنہ مقتل عثمان بن عفان (۱؍۸۲) [2] یہاں قراء ت کہنا صحیح نہیں بلکہ حروف صحیح ہے، چوں کہ قرآن کا نزول آسانی کے لیے سات احرف پر ہوا تھا، جو عرب کے مشہور لغات و لہجات تھے، اور ہر ایک کو اپنے اپنے لہجے و لغت کے اعتبار سے پڑھنے کی آزادی دی گئی تھی، لیکن جمع قرآن کے وقت لغت قریش کو باقی رکھا گیا جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے ساتھ آخری دور فرمایا تھا (مترجم) [3] فتنۃ مقتل عثمان بن عفان (۱؍۸۳) [4] مسند احمد (۱؍۲،۲۶)