کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 302
نہیں ادا کیے تھے اور نہ اس سے مقصود نئی خلافت، مقام و مرتبہ اور منصب کا حصول تھا، لہٰذا یہ بدیہی امر ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف کسی کے دل میں حسد و بغض نہیں تھا، ہر ایک کے پیش نظر حق کی اتباع اور مسلمانوں کی مصلحت تھی۔[1] اور جو کچھ ہوا وہ نصیحت و خیر خواہی اور اس کے آداب اور رعیت کی تادیب کے پیش نظر ہوا۔ روافض اور ان کے مقلدین کا جو زعم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس قدر پٹائی کی کہ وہ وفات پا گئے تو یہ باتفاق اہل علم جھوٹ ہے۔ ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پٹائی اور ان کے وظائف و عطیات کو روکنے کی خبریں محض جھوٹ ہیں۔‘‘[2] عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق اس جھوٹے واقعہ کو لے کر روافض کو حق نہیں پہنچتاکہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کریں، کیوں کہ نہ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی پٹائی کی اور نہ ان کے وظائف و عطیات کو بند کیا، بلکہ عثمان رضی اللہ عنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کو پہچانتے تھے، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے امام عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعت کا سختی کے ساتھ التزام فرماتیتھے۔ آپ ان سے بیعت کر چکے تھے اور آپ کا عقیدہ تھا کہ بیعت کے وقت مسلمانوں میں سب سے افضل عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔[3] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف سے روکنے سے متعلق آیات کا فہم: ارشاد الٰہی ہے: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (153) (الانعام: ۱۵۳) ’’اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو۔‘‘ صراط مستقیم سے مراد قرآن و اسلام اور وہ فطرت الٰہی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے، اور سُبُل(دوسری راہوں) سے مقصود بدعات و محدثات اور باطل فرقے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: {وَلَا تَتَّبِعُوا [1] عبداللہ بن مسعود؍ عبدالستار الشیخ ص (۳۲۴) [2] العواصم من القواصم ص (۶۳) [3] عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام (۳؍۱۰۶۶)