کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 292
مصالح مرسلہ کے پیش نظر قرآن کو جمع و مدون کیا گیا اور اس کی سب سے بڑی دلیل ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال ہے کہ ہم کیسے وہ کام کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے: ’’ایسا کرنا بہتر ہے۔‘‘ اور بعض روایات میں یوں آیا ہے کہ ’’اللہ کی قسم یہ بہتر ہے اور اسی میں مسلمانوں کی مصلحت ہے۔‘‘ اور یہ بالکل وہی جواب ہے جو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سوال پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ خواہ وہ روایت جس میں مصلحت کا لفظ وارد ہے صحیح ہو یا نہ ہو لیکن ’’ایسا کرنا بہتر ہے‘‘ کا ماحصل یہی ہے۔ قرآن کی جمع و تدوین میں مسلمانوں کی مصلحت شروع میں مصالح مرسلہ کے اصول پر مبنی تھی اس کے بعد جب تمام حضرات نے صریح یا ضمنی اقرار کے ذریعہ سے موافقت کر دی تو اس کام کے لیے اجماع صحابہ منعقد ہو گیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصالح مرسلہ ان حضرات کے نزدیک جو اس کی حجیت کے قائل ہیں اجماع کی سند بن سکتی ہے۔ اصول فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس طرح محبت و احترام کے پرسکون ماحول میں اجتہاد کرتے تھے، اور ان کا ہدف و مقصود ان نتائج تک پہنچنا تھا جو مسلمانوں کے مصالح عامہ کے حق میں ہوں۔یہ حضرات صحیح رائے کو قبول کرتے، افہام و تفہیم کے بعد جب شرح صدر ہو جاتا اور وہ کسی رائے سے مطمئن ہو جاتے تو پھر اس کی طرف سے دفاع کرتے، جیسا کہ شروع سے ہی ان کی یہی رائے تھی۔ اس جذبہ و حوصلہ کی وجہ سے بہت سے اجتہادی مسائل میں ان کے اجماع کا انعقاد ممکن ہوا۔[1] زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو جمع قرآن کے لیے منتخب کرنے کے اہم اسباب: ۱۔ آپ نوجوان تھے، آپ کی عمر ابھی صرف ۲۱ سال تھی، اس لیے آپ اس کام کے لیے زیادہ سرگرم اور چاق و چوبند ہو سکتے تھے۔ ۲۔ آپ عقل رسا کے مالک تھے، آپ کے اندر اس کی زیادہ اہلیت پائی جاتی تھی، آپ اس کام کی نزاکت کو زیادہ سمجھ سکتے تھے، اور اللہ تعالیٰ جسے عقل رسا عطا فرماتا ہے اس کے لیے خیر کے راستے آسان کر دیتا ہے۔ ۳۔ آپ ثقہ اور قابل اعتماد تھے، ہر طرح کے شوک و شبہات اور اتہامات سے پاک تھے۔ اس لیے صحابہ میں آپ کا عمل قابل قبول ہو گا، نفس مائل ہوں گے اور اس سے دل مطمئن ہوں گے۔ ۴۔ آپ کاتب وحی رہ چکے تھے اس سلسلہ میں آپ کو پرانا تجربہ تھا، اور عملی طور سے یہ کام آپ کر چکے تھے یہ کوئی نیا کام نہ تھا۔[2] ۵۔ مزید برآں آپ ان چار ممتاز صحابہ میں سے تھے جنھوں نے عہد نبوی میں مکمل قرآن حفظ کر رکھا تھا۔ قتادہ [1] الاجتہاد فی الفقہ الاسلامی؍ عبدالسلام السلیمانی ص (۱۲۷) [2] التفوق والنجابۃ علی نہج الصحابۃ؍ احمد العجمی ص (۷۳)