کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 279
اسی طرح آپ نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ وہ انطاکیہ کی سرحد پر کچھ لوگوں کو مقرر کر دیں، اور ان کے لیے وہاں جاگیریں مقرر کر دیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔[1] آپ سرحدوں کا بے حد اہتمام فرماتے تھے اور وہاں ایسے لوگوں کو روانہ کرتے تھے جو وہاں کی خبریں ان کو پہنچائیں۔[2] جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے عموریہ پر حملہ کیا اور انطاکیہ اور طرسوس کی سرحدوں کے درمیان واقع قلعوں کو رومی افواج سے خالی پایا تو وہاں پر شام، جزیرہ اور قنسرین کی فوج کو متعین فرما دیا، اور انہیں وہاں ٹھہرنے کا حکم فرمایا تاکہ غزوات سے لوٹنے کے دوران یہ ان کی پشت پناہی کر سکیں۔ پھر اس کے ایک سال یا دو سال بعد یزید بن حر عبسی کو موسم گرما کی جنگ پر روانہ کیا[3]اور انہیں حکم دیا کہ وہ بھی ایسا ہی کریں، موسم گرما و سرما میں جنگ کرنے والے جرنیل جب روم میں داخل ہوتے تو وہ ایسا ہی کرتے تھے، وہاں کثیر تعداد میں فوج کو اس وقت تک کے لیے چھوڑ جاتے جب تک کہ وہ دشمن کی سر زمین سے واپس نہ آجاتے۔[4] معاویہ رضی اللہ عنہ نے شامی ساحلوں کے انتظام و انصرام کے دوران اپنی شجاعت اور انتظامی صلاحیت کا اچھی طرح مظاہرہ کیا۔[5] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو تحریر فرمایا کہ اسکندریہ کی سرحد کی حفاظت مرابط فوج کا ایک لشکر وہاں مقرر کر کے کریں اور ان کی تنخواہیں جاری رکھیں، اور مرابطین کی باری باری ڈیوٹی لگاتے رہیں، تاکہ مسلسل دشمن سے مقابلہ میں ڈٹے رہنے کی وجہ سے انہیں ضرر لاحق نہ ہو۔ اور فرمایا تم جانتے ہو کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسکندریہ کی کس قدر فکر رکھتے تھے۔ روم نے دو مرتبہ عہد کو توڑا تھا، چنانچہ آپ نے وہاں مرابطین کو متعین فرما دیا تھا، اور ان کی تنخواہیں جاری رکھی تھیں اور ہر چھ ماہ پر ان کا تبادلہ کر دیا کرتے تھے۔[6] خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کے جرنیلوں کی عادت تھی کہ جب وہ فتوحات میں آگے بڑھتے اور دشمن کے قلعوں پر قبضہ کرتے تو اس میں ترمیم و اصلاح کرتے، جیسا کہ اس سے پہلے مسلم جرنیل کیا کرتے تھے، پھر اس میں مسلم مرابط فوج کو ٹھہرا دیتے اور دیگر نئے دفاعی اور حفاظتی اضافے کرتے۔ وہ قلعے جس کی ترمیم و اصلاح معاویہ رضی اللہ عنہ [1] فتوح البلدان ؍ البلاذری (۱؍۱۷۵) [2] الخراج صناعۃ الکتابۃ؍ا بن قدامۃ ص (۴۱۳) [3] الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ (۲؍۴۶۷) [4] الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ (۲؍۴۶۷) [5] الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ (۲؍۴۶۷) [6] فتوح مصر ص (۱۹۲)