کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 27
یرفعہا اذا شاء اللّٰہ ان یرفعہا، ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ۔)) [1] ’’تم میں نبوت جب تک اللہ چاہے گا رہے گی پھر جب اس کو اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر منہاج نبوت پر خلافت ہو گی جب تک اللہ چاہے گا اور پھر جب اس کو اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر سخت گیر ملوکیت ہو گی، جب تک اللہ چاہے گا رہے گی اور جب اللہ اس کو اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر منہاج نبوت پر خلافت ہو گی۔ ‘‘ امت اسلامیہ اس زندگی میں جن عزائم و مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے کوشاں ہے اس کے لیے منہاج نبوت اور خلافت کے دور کی معرفت انتہائی ضروری اقدام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی۔)[2] ’’تم میرے طریقہ کو اور میرے بعد ہدایت یاب خلفائے راشدین کے طریقہ کو لازم پکڑو۔‘‘ خلفائے راشدین کے دور کی تاریخ دروس و عبر سے پر ہے۔ یہ کتابوں اور مصادر و مراجع میں بکھرے ہوئے ہیں، خواہ یہ تاریخی ہوں یا حدیثی ، فقہی ، ادبی یا تفسیری ہوں۔ اس کی جمع و ترتیب اور توثیق و تحلیل کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ خلافت راشدہ کی تاریخ کو اگر اچھی طرح پیش کیا جائے تو یہ ارواح کو غذا پہنچاتی ہے، نفوس کو مہذب بناتی ہے اور دلوں کو منور کرتی ہے، عقلوں کو مستحکم اور ہمتوں اور عزائم کو پختہ کرتی ہے، دروس و اسباق پیش کرتی ہے، عبرتوں کو آسان اور فکر کو روح رواں بخشتی ہے اور اس خلافت کے نقوش، قائدین کے صفات، نظام محکم، اسلامی نسلوں کے اخلاف، ازدہار و ترقی کے عوامل اور زوال کے اسباب کو واضح کرتی ہے۔ اس سے ہم منہاج نبوت اور فقہ خلافت راشدہ پر مسلم نسل کی تربیت میں استفادہ کر سکتے ہیں، اور ان نفوس کی زندگیوں کا تعارف حاصل کر سکتے ہیں جن کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100) (التوبہ: ۱۰۰) ’’اور جو مہاجرین و انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے،یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا [1] المسند (۴؍۲۷۳)۔ البزار (۱۵۸۸) رجالہ ثقات۔ [2] سنن ابی داؤد: ۴؍۲۰۱۔ الترمذی: ۵؍۴۴ حسن صحیح۔