کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 267
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے اکابرین صحابہ کی ایک جماعت کو جمع کیا اور اس سلسلہ میں ان سے مشورہ لیا، تمام لوگوں نے اس رائے پر موافقت کی۔ دوسرے دن عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ تمام بہادر مسلمانوں کو خیموں میں باقی رکھا اور ان کے گھوڑوں کو زین کس کر تیار رکھا، اور باقی لوگ رومیوں سے ظہر تک گھمسان کی جنگ لڑتے رہے۔ جب ظہر کی اذان ہوئی تو رومیوں نے اپنے خیموں کو واپس ہونا چاہا لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو اس کا موقع نہ دیا اور ان سے شدید جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو تھکا دیا، پھر طرفین اپنے اپنے خیموں کو واپس ہوئے اور اپنے ہتھیار اتار کر آرام کرنے لگے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان تازہ دم مجاہدین کو جن کو خیموں میں باقی رکھا تھا ساتھ لیا اور اچانک رومیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کے اندر گھس کر یکبارگی ہلہ بول دیا، ان کو اسلحہ سنبھالنے کا موقع نہیں دیا۔ اس ہلے میں جرجیر کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قتل کیا، رومیوں کو شکست فاش ہوئی، ان میں سے بہت سے لوگ قتل ہوئے اور جرجیر کی بیٹی کو قید کر لیا گیا۔ عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر کے اس کو فتح کر لیا اس میں بہت سارا مال و متاع ہاتھ آیا۔ شہسوار کو تین ہزار دینار اور پیادہ کو ایک ہزار دینار غنیمت میں ملے۔ جب عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے سبیطلہ شہر فتح کر لیا تو ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی افواج کو روانہ کیا۔ یہ افواج قفصہ پہنچ گئیں جہاں انہیں قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ أجم قلعہ پر آپ نے فوج کشی کی، شہر کے لوگ قلعہ بند ہو گئے۔ آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا اور امان کے ذریعہ سے فتح کیا۔ افریقہ کے لوگوں نے آپ سے مصالحت کر لی جیسا کہ بات گزر چکی ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شاہ جرجیر کی بیٹی عطیہ میں ملی، اور ان کو عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے افریقہ کی فتح کی بشارت دے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا۔[1] بہادری و شجاعت میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا عظیم کردار رہا ہے، جس کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: جب مسلمانوں نے افریقہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا اس وقت ان کی تعداد بیس ہزار تھی اور ان کے سپہ سالار عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ تھے، اور اس لشکر میں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان کے مقابلہ میں بربر کا بادشاہ جرجیر ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض روایات کے مطابق دو لاکھ سپاہیوں کے ساتھ نکلا، جب دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں تو جرجیر نے اپنی فوج کو حکم دیا، انہوں نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر کر ہالہ بنا لیا، اس وقت انتہائی نازک منظر سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے قبل ایسے بھیانک اور خوفناک منظر سے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے صفوں کے پیچھے جرجیر کو دیکھا، وہ ٹٹو پر سوار تھا، دو لونڈیاں اس پر مور کے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھیں۔ میں عبداللہ بن سعد کے پاس گیا اور ان سے کہا: میرے ساتھ کچھ [1] الکامل؍ ابن اثیر (۳؍۴۵،۴۶)