کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 236
میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا، میں نے آپ کے پاس بھتیجے ماہک کو بھیجا ہے تاکہ وہ آپ سے معاہدہ طے کر لے۔ ‘‘ اس کے جواب احنف رضی اللہ عنہ نے یہ خط تحریر فرمایا: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ امیر جیش صخر بن قیس کی طرف سے باذان حاکم مروروز اور اس کے ساتھی فوجی افسران اورا عاجم کے نام! اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے، ایمان لائے اورتقویٰ اختیار کرے ۔ اما بعد! یقینا تمہارا بھتیجا ماہک میرے پاس آیا، تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی، تمہارا خط پہنچایا اور میں نے اس کو اپنے ساتھی مسلمانوں پر پیش کیا، میں اور وہ تمہارے سلسلہ میں برابر ہیں۔ ہم نے تمہاری اس پیش کش کو قبول کر لیا ہے کہ تم اپنے کاشتکاروں، کسانوں اور اس زمین کا خراج ادا کرو گے جو ظالم کسریٰ نے تمہارے پڑدادا کو اس سانپ کے قتل کرنے پر عطا کی تھی جس نے فساد برپا کیا تھا اور راستہ روک رکھا تھا، زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اپنے بندوں میں سے اللہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، تمہارے ذمہ مسلمانوں کی مدد اور اپنے فوجی افسران کے ساتھ ان کے دشمنوں سے قتال کرنا ہے اگر مسلمان ان کو چاہیں اور پسند کریں، اور اس کے عوض تمھیں ایسے وقت میں مسلمانوں کی نصرت حاصل ہو گی جب تمہارے ہم ملت اعداء تم سے قتال کریں۔ اس سلسلہ میں میری طرف سے تمھیں تحریر حاصل ہو گی۔ تمہارے اوپر یا تمہارے خاندان اور قرابت داروں پر کوئی خراج عائد نہ ہو گا۔ اور اگر تم اسلام قبول کر لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے لگو تو تمہیں مسلمانوں کی طرف سے عطیات ، منزلت اور روزینہ حاصل ہو گا اور تم ان کے بھائی ہو گے، اور تمھیں میرا اور میرے والد اور مسلمانوں اور ان کے آباء کا ذمہ حاصل ہو گا۔ اس تحریر پر جزء بن معاویہ یا معاویہ بن جزء سعدی، حمزہ بن ہرماس مازنی،حمید بن خیار مازنی، عیاض بن ورقاء اسیدی شاہد ہیں، اسے کیسان مولیٰ بنی ثعلبہ نے بروز یکشنبہ ماہ محرم میں تحریر کیا، اور امیر جیش احنف بن قیس نے مہر ثبت کی آپ کی مہر نقش ’’نعبد اللہ‘‘ ہے۔‘‘[1] احنف بن قیسؓ کے لشکر اور طخارستان، جوزجان، طالقان اور فاریان والوں کے مابین قتال: عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے مرو والوں سے مصالحت کر لی اور احنف رضی اللہ عنہ کو چار ہزار فوج کے کے ساتھ طخارستان کی طرف روانہ کیا، وہ آگے بڑھے اور مرو روز میں احنف کے قصر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ ان کے مقابلہ [1] تاریخ الطبری (۵؍۳۱۶)