کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 234
سپاہی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، تو بھلا اس حال میں کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس لشکر کو چھوڑ دیں جس کا قائد ان کا بھائی ہو اور اس سے استفادہ نہ کریں؟ قدیم مؤرخین’’ہزیمت‘‘ کو ’’انسحاب‘‘ کے معنی میں استعمال کرتے تھے، کیوں کہ ان کی اکثریت مدنی تھی، ان دونوں تعبیروں میں وہ تفریق نہیں کرتے تھے۔ حالاں کہ ہزیمت بغیر کسی نظام و قیادت کے میدان قتال کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں جو محض ایک حادثہ ہے، جب کہ انسحاب میدان قتال کو متعین و منظم منصوبہ کے مطابق ایک قیادت کے تحت چھوڑنے کو کہتے ہیں، انسحاب بھی قتال کا ایک طریقہ ہے اس کا مقصد معرکہ کے تقاضے کے مطابق تیاری کی تکمیل کے بعد دشمن پر دوبارہ حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔ امید ہے کہ جدید مؤرخین تعبیر کی اس غلطی کا شکار نہ ہوں گے کہ وہ ہزیمت و انسحاب میں تفریق نہ کریں، کیوں کہ دونوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ [1] ۳۲ھ ، اہل کوفہ اور اہل شام میں پہلا اختلاف: جب عبدالرحمن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کر لیا تو سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس شاخ کا امیر سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی مدد کے لیے اہل شام کو حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ کیا، وہاں سلمان و حبیب رضی اللہ عنہما کے درمیان امارت کے سلسلہ میں اختلاف رونما ہوا، شامیوں نے کہا ہمارا ارادہ ہوا کہ ہم سلمان کو قتل کر دیں، لوگوں نے کہا: ایسی صورت میں ہم حبیب کو قتل یا قید کر دیں گے، اور اگر تم لوگ نہیں مانتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان مقتولین کی تعداد بھاری ہو گی، چنانچہ اس مناسبت سے کوفیوں میں سے اوس بن مغراء نے کہا: ان تضربوا سلمان نضرب حبیبکم و ان ترحلوا نحو ابن عفان نرحل ’’اگر تم سلمان کو قتل کروگے تو ہم تمہارے حبیب کو قتل کر دیں گے، اور اگر تم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچو گے تو ہم بھی ان کے پاس پہنچیں گے۔‘‘ وان تقسطوا فالثغر ثغر امیرنا وہذا امیر فی الکتائب مقبل ’’اور اگر تم لوگ انصاف سے کام لو تو حدود کے یہ میدان ہمارے امیر ہیں اور ہمارا یہ امیر فوج میں مقبول عام ہے۔‘‘ و نحن ولاۃ الثغر کنا حماتہ لیالی ترمی کل ثغز و ننکل [2] [1] قادۃ الفتح الاسلامی فی أرمینیۃ (۱۵۲،۱۵۳) [2] تاریخ الطبری (۵؍۳۱۱) البدایۃ والنہایۃ (۷؍۱۶۶)