کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 232
خلافت کے نویں سال بلنجر پر حملہ کر دیا اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا اور اس پر منجنیق اور پتھر برسانے کے آلات نصب کر دیے، جو بھی اس سے قریب ہوتا یا تو اس کو زخمی کر دیتے یا قتل کر دیتے۔[1] پھر ایک دن ترکوں نے بلنجر والوں سے گٹھ جوڑ کیا بلنجر کے لوگ نکلے اور ان کے ساتھ ترک بھی آکر مل گئے اور قتال کیا۔ عبدالرحمن بن ربیعہ نے جن کو ذوالنور کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا جام شہادت نوش کر لیا، اور مسلمان شکست خوردہ ہو گئے اور میدان کو چھوڑ دیا، جو لوگ سلمان بن ربیعہ کی طرف سے نکلے انہوں نے ان کی حفاظت کی یہاں تک کہ باب سے نکل گئے، اور جو لوگ خزر کے علاقہ سے نکلے وہ لوگ جیلان اور جرجان پہنچ گئے، جہاں سلمان فارسی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما تھے۔[2] یزید بن معاویہ کا قتل: عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اہل کوفہ کئی سال تک بلنجر پر حملہ کرتے رہے، نہ تو کوئی عورت ان کی بیوہ ہوئی اور نہ ان حملوں کی وجہ سے کوئی بچہ یتیم ہوا، یہاں تک کہ خلافت عثمانی کے نویں سال حملہ سے دو روز قبل یزید بن معاویہ نے خواب دیکھا کہ ایک انتہائی خوبصورت ہرن ان کے خیمے کے پاس لایا گیا، ایسا خوبصورت ہرن انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے اس کو اپنے لحاف میں لپیٹ لیا، پھر ایک قبر لائی گئی اس پر چار افراد کھڑے تھے ایسی خوبصورت اور سیدھی قبر کبھی دیکھی نہیں گئی، پھر اس ہرن کو اس میں دفن کر دیا گیا۔ جب ترکوں پر لوگوں نے حملہ کیا تو ایک پتھر آکر یزید کو لگا جس سے ان کا سر پھٹ گیا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے کپڑے خون سے آلودہ ہونے کے بجائے مزین ہو گئے ہیں، خود ہی وہ ہرن تھے جس کو خواب میں دیکھا تھا۔[3] یزید رحمہ اللہ بڑے نرم مزاج اور خوبصورت تھے، یہ خبر جب عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو فرمایا: انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ کوفہ والے شکست خوردہ ہو گئے، اللہ ان کو معاف فرمائے اور فتح نصیب فرمائے۔[4] تمہاری سفیدی میں خون کی سرخی کتنی حسین ہے: عمرو بن عتبہ سفید قبا پہنے ہوئے تھے، اور اس سے کہہ رہے تھے کہ تمہاری سفیدی میں خون کی سرخی کتنی حسین ہے۔ چنانچہ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت ان کو زخم لگا تو اپنی قبا کو ویسے ہی پایا جیسی خواہش ظاہر کی تھی اور شہید ہو گئے۔[5] کپڑوں پر خون کی چمک کتنی حسین لگتی ہے: قرشع کہا کرتے تھے: کپڑوں پر خون کی چمک کتنی حسین لگتی ہے، چنانچہ مقابلہ کے دن پوری جواں مردی [1] تاریخ الطبری: (۵؍۳۰۸) [2] تاریخ الطبری: (۵؍۳۰۹) [3] تاریخ الطبری: (۵؍۳۱۰) [4] تاریخ الطبری: (۵؍۳۱۱) [5] تاریخ الطبری: (۵؍۳۱۰)