کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 214
میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو مقام عرج میں دیکھا آپ حالت احرام میں تھے سخت گرمی کا دن تھا، آپ اپنا چہرہ ارغوانی چادر سے ڈھکے ہوئے تھے پھر آپ کے سامنے خشکی کے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ کھا لو۔ لوگوں نے عرض کیا آپ نہیں کھائیں گے؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں یہ میرے لیے شکار کیا گیا ہے۔[1] ۱۳۔ قرابت داروں میں شادی کی کراہت: خلال نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ عن ابیہ سے روایت کی ہے کہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم عداوت و دشمنی کے خوف سے قرابت داروں میں شادی کو ناپسند کرتے تھے۔[2] ۱۴۔ رضاعت: عبدالرزاق نے ابن جریج کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان جوڑوں میں جدائی کرا دی جن کے بارے میں ایک کالی عورت نے بیان دیا کہ میں نے انہیں دودھ پلایا ہے۔[3] ۱۵۔ خلع: ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان اختلاف ہو گیا میں نے کہا: آپ ہر چیز لے لیں اور میرا معاملہ صاف کر دیں۔ انہوں نے کہا: میں نے کر دیا۔ اللہ کی قسم انہوں نے میرا سب کچھ لے لیا یہاں تک کہ میرا بستر بھی نہیں چھوڑا۔ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی جب کہ آپ گھر میں محصور تھے۔ آپ نے فرمایا: (الشرط املک) شرط مقدم ہے تم ہر چیز لے لو یہاں تک کہ موباف بھی لے لو۔[4] ۱۶۔ شوہر کی وفات پر سوگ واجب ہے: سوگ میں سے ترک زینت اور اس گھر کے علاوہ جس میں شوہر کی وفات کے وقت تھی رات گزارنے سے پرہیز لازم ہے۔ الا یہ کہ کوئی ضرورت و مجبوری آجائے۔ البتہ اس کے لیے جائز ہے کہ دن کے حصہ میں اپنی ایسی ضروریات کی تکمیل کے لیے نکل سکتی ہے جس کے بغیر چارہ نہ ہو، لیکن اس گھر سے باہر رات نہیں گزار سکتی۔[5] فریعہ بنت مالک بن سنان، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو خبر دی کہ ان کے شوہر اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلے ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا تو کیا میں اپنے میکے جا سکتی ہوں کیوں کہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت کا کوئی مکان نہیں چھوڑا اور نہ نان و نفقہ چھوڑا [1] سنن البیہقی (۵؍۱۹۱) موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان ص (۲۰) [2] الخلافۃ الراشدۃ؍ یحیی الیحیی ص (۴۴۹) [3] الفتح الباری (۵؍۱۸) [4] الطبقات (۸؍۴۴۸) [5] موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان ص (۲۴۴)