کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 203
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک شخص نے نادر شکاری کتے کو قتل کر دیا، اس کی قیمت آٹھ سو درہم مقرر کی گئی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص پر اس کی ادائیگی لازم قرار دی اور اسی طرح ایک شخص نے ایک دوسرے شکاری کتے کو قتل کر دیا تو اس پر بیس اونٹ کا جرمانہ عائد کیا۔[1] ۸۔ حملہ آور پر زیادتی: اگر کوئی شخص کسی کے مال یا جان یا عزت پر حملہ کرے اور پھر وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہے اس شخص کو قتل کر دے تو اس کا خون رائیگاں ہو گا۔ قصاص وغیرہ لاگونہ ہو گا۔ علامہ ابن حزم نے محلّی میں روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھا تو اس کو قتل کر دیا یہ قضیہ عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔[2] ۹۔ مرتد کو توبہ کرانا اور اس پر حد جاری کرنا: مرتد سے جب تک تین بار توبہ کا مطالبہ نہ کر لیا جائے اس پر حد جاری نہ کی جائے گی، اگر وہ اپنے ارتداد پر مصر رہے تو پھر اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے اور مسیلمہ کذاب کی دعوت عام کرنے لگے تھے۔ آپ نے ان سے متعلق امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو تحریر بھیجی آپ نے انہیں تحریر بھیجی کہ ان لوگوں کے سامنے دین حق اسلام اور لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کو پیش کریںجو اس دعوت کو قبول کر لے اور مسیلمہ سے برأت کا اظہارکرے اس کو مت قتل کریں اور جو مسیلمہ کے دین پر ڈٹا رہے اس کو قتل کر دو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اس دعوت کو قبول کر لیا انہیں چھوڑ دیا گیا اور کچھ لوگ مسیلمہ کے دین پر ڈٹے رہے انہیں قتل کر دیا گیا۔[3] ۱۰۔ میں نے قتل کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ ہے؟ ایک شخص نے عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المومنین میں نے قتل کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ ہے؟ اس کے جواب میں عثمان رضی اللہ عنہ نے سورۂ مومن کی ان کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی: حم (1) تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (2) غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (3) (مومن : ۱۔۳) ’’حم، اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے۔ گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول فرمانے والا سخت عذاب والا ہے۔ ‘‘ پھر فرمایا: عمل کرو اور مایوس نہ ہو۔[4] قابل ذکر بات یہ ہے کہ گناہوں کا تعلق اگر حقوق العباد سے ہو تو اس سے توبہ کے لیے ضروری ہے کہ حقوق [1] موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان ص (۱۰۲) [2] موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان ص (۱۰۳) [3] موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان ص (۱۵۰) [4] سنن البیہقی: ۷؍۱۷۔