کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 135
((ان الحمّاء لتُقصُّ من القرناء یوم القیامۃ۔))[1] ’’قیامت کے دن بے سینگ جانور کو سینگ والے جانور سے بدلہ دلایا جائے گا۔‘‘ ب۔ مکارم اخلاق کی تذکیر: عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم یقینا ہم سفر و حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مریضوں کی عیادت فرماتے: ہمارے جنازوں کی تجہیز و تکفین میں شرکت فرماتے، ہمارے ساتھ جہاد کرتے، اور قلیل و کثیر کے ساتھ ہماری غمخواری فرماتے۔ کچھ لوگ اسے ہمیں سکھاتے ہیں حالاں کہ ان میں سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی دیکھا بھی نہیں ہو گا۔[2] ج۔ حکمت کی باتیں جو زبان زد ہوئیں: ٭ آپ نے فرمایا: ((لو طہرت قلوبنا ما شبعتم من کلام ربکم۔)) [3] ’’اگر ہمارے دل پاک ہوتے تو تم اپنے رب کے کلام سے آسودہ نہ ہوتے۔‘‘ ٭ آپ نے فرمایا: ((ما اسر احد سریرۃ الا ابداہا اللّٰه تعالیٰ علی صفحات وجہہ و فلتات لسانہ۔)) [4] ’’جب بھی کوئی شخص راز کی باتیں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے آثار اور زبان کی لغزشوں سے اس کو نمایاں کر دیتا ہے۔‘‘ ٭ آپ نے فرمایا: ((ان اللّٰه لیزع بالسطان ما لا یزع بالقرآن۔))[5] ’’یقینا اللہ تعالیٰ سلطان کے ذریعہ سے کچھ چیزوں کو میٹا دیتا ہے جو قرآن کے ذریعہ سے نہیں میٹاتا۔‘‘ ٭ آپ دنیا کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے، چنانچہ آپ نے دنیا کے سلسلہ میں فرمایا: ((ہم الدنیا ظلمۃ فی القلب وہم الآخرۃ نور فی القلب۔))[6] [1] الموسوعۃ الحدیثیۃ فی مسند احمد : (۵۲۰) [2] صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ ذی النورین ص (۱۰۷) [3] جامع العلوم و الحکم ص (۳۶۳) [4] فرائد الکلام للخلفاء الکرام ص (۲۶۹) [5] الکامل فی اللغۃ والادب (۱؍۱۵۷) [6] الاستعداد لیوم المعاد ، ص (۹)