کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 114
((علیکم بالامین واصحابہ۔))[1] ’’تم امین اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔‘‘ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح معجزہ ہے جو آپ کی نبوت کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کی خبر دی جو عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں رونما ہوا، اور ویسا ہی ہوا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔ اسی طرح یہ حدیث عثمان رضی اللہ عنہ کی احقیت خلافت پر دلالت کرتی ہے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو انہیں لازم پکڑنے اور ان کے ساتھ رہنے کی طرف رہنمائی فرمائی، اور یہ خبر دی کہ فتنہ و اختلاف برپا ہو گا، اور اس صورت میں حق امیر المومنین کے ساتھ ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا ساتھ تھامے رہنے کا حکم فرمایا، کیوں کہ وہ حق پر ہوں گے اور جن لوگوں نے ان کے خلاف خروج کیا وہ باطل پر ہوں گے، اور وہ اہل بدعت و ضلالت ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سلسلہ میں یہ شہادت دی کہ آپ برابر ہدایت پر گامزن ہوں گے، اس سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے۔[2] ۶:…ترمذی نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یا عثمان إنہ لعل اللّٰه یُقَمِّصُک قمیصا فإن ارادوک علی خلعہ فلا تخلعہ لہم۔))[3] ’’اے عثمان امید ہے اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا پس اگر لوگ تم سے اس قمیص کو اتروانا چاہیں تو اس قمیص کو ان کی وجہ سے مت اتارنا۔‘‘ یہ حدیث خلافت کی طرف اشارہ ہے، اور قمیص کو بطور استعارہ خلافت کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اور قمیص کو اتروانے میں خلافت کے لیے آپ کی نامزدگی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خلیفہ بنائے گا، اگر لوگ اس منصب سے تمہیں معزول کرنا چاہیں تو ان کی وجہ سے اپنے آپ کو معزول نہ کرنا، کیوں کہ تم حق پر ہو گے اور لوگ باطل پر۔[4] ۷:…ترمذی نے ابو سہلہ سے روایت کیا ہے کہ محاصرہ کے روز عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا میں اس پر ڈٹا رہوں گا۔[5] یہاں عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے‘‘سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان [1] المستدرک (۳؍۹۹) صححہ و وافقہ الذہبی [2] عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ (۲؍۶۶۰) [3] فضائل الصحابۃ (۱؍۶۱۳) اسنادہ صحیح ۔ [4] الدین الخالص؍محمد صدیق حسن القنوجی البخاری (۳؍۴۴۶) [5] الترمذی: ۵؍۲۹۵۔ فضائل الصحابۃ: ۱؍۶۰۵۔