کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 105
میں کبار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جو بھی ملتا اس سے مشورہ طلب کرتے، فوجی قائدین و جرنیلوں اور جو بھی مدینہ آتا اس سے مشورہ کرتے یہاں تک کہ خواتین، بچوں اور غلاموں سے بھی ان کی رائے دریافت کرتے، اور اس مشاورت کا نتیجہ یہ رہا کہ بھاری اکثریت نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے موزوں قرار دیا، جب کہ کچھ ہی لوگوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا، چنانچہ چہار شنبہ کی شب میں آپ اپنے بھانجے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے۔ دروازے پر دستک دی تو وہ سو رہے تھے۔ دروازے پر زور سے مارا کہ وہ بیدار ہو گئے۔ فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تم سو رہے تھے آج کی رات تو میں نے نیند کا سرمہ تک نہیں لگایا۔[1] جاؤ اور زبیر اور سعد رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ، وہ انہیں بلا لائے، آپ نے ان دونوں سے مشورہ کیا پھر مسور رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: جاؤ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ، وہ انہیں بلا کر لائے آپ ان سے سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی، پھر مسور رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ انہیں بلا لائے اور آپ ان سے سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ مؤذن نے اذان فجر دی۔[2] ۴۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اتفاق: بیعت کے دن (۴؍ محرم ۲۴ھ) فجر کی نماز کے بعد جب کہ وصیت کے مطابق صہیب رومی رضی اللہ عنہ ہی امامت کرتے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ عمامہ باندھے ہوئے آگے بڑھے، ممبران شوریٰ منبر نبوی کے پاس تشریف فرما تھے، آپ نے مہاجرین و انصار اور فوجی قائدین اور جرنیلوں کو بلوایا ان میں شام کے امیر معاویہ بن ابی سفیان، حمص کے امیر عمیر بن سعد اور مصر کے امیر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم اس وقت موجود تھے، جنھوں نے حج میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی تھی اور آپ کی معیت میں مدینہ پہنچے تھے۔[3] صحیح بخاری میں یہ واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے: ’’جب لوگ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور ممبران شوریٰ منبر کے پاس جمع ہو گئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار میں سے جو حاضر تھے ان کو بلا بھیجا، اور اسی طرح سپہ سالاروں کو بلوایا جنھوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج میں شرکت کی تھی جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اور پھر فرمایا: حمد و صلوٰۃ کے بعد، اے علی میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کیے، اور میں نے دیکھا وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل نہ پیدا کریں، پھر فرمایا: میں آپ(عثمان رضی اللہ عنہ ) سے بیعت کرتا ہوں اللہ کی سنت اور اس [1] الخلفاء الراشدون؍ الخالدی ص: (۱۰۶۔۱۰۷) [2] البخاری: کتاب الاحکام (۷۲۰۷) [3] شہید الدار عثمان بن عفان؍ احمد الخروف ، ص: (۳۷)