کتاب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے - صفحہ 102
٭ ترجیح نفس، انصاف سے انحراف اور خواہشات کی اتباع سے اجتناب، کیوں کہ اس میں ہلاکت و تباہی ہے جو حاکم کو انحراف کی طرف لے جاتی ہے، اور اس سے معاشرہ فساد اور انسانی تعلقات اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ((وایاک والاثرۃ والمحاباۃ فیما ولاک اللّٰه۔)) ’’خبردار! اللہ جس چیز کا تمہیں والی بنائے اس میں ترجیح نفس سے بچنا اور انصاف سے انحراف نہ کرنا۔‘‘ ((ولا توثر غنیہم علی فقیرہم۔)) ’’فقراء پر مال داروں کو ترجیح نہ دینا۔‘‘ ٭ رعایا کا احترام و توقیر اور ان کے لیے تواضع اختیار کرنا خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کیوں کہ اس سے اجتماعی تعلقات بلند ہوتے ہیں اور رعایا کے تعلقات اپنے قائد سے مضبوط ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک قائد سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ((وانا شدک اللّٰه إلا ترحمت علی جماعۃ المسلمین ،واجللت کبیرہم ورحمت صغیرہم ووقرت عالمہم۔)) میں تمہیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر رحم کرنا، بڑوں کا اجلال و اکرام اور چھوٹوں پر رحم کرنا، عالموں کی توقیر و تعظیم کرنا۔‘‘ ٭ رعایا پر دروازہ بند نہ کرنا تاکہ ان کی شکایات سن سکے اور ایک کو دوسرے سے انصاف دلا سکے۔ اور دروازہ بند کر دینے کی صورت میں آپس کے تعلقات اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں اور معاشرہ میں پیچیدگی اور انارکی عام ہو جاتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ((ولا تغلق بابک دونہم ، فیاکل قویہم ضعیفہم۔)) ’’اپنا دروازہ رعایا کے سامنے بند نہ کرنا کہ قوی ضعیف کو کھا جائے۔‘‘ ٭ حق کی اتباع اور تمام حالات و ظروف میں معاشرہ میں اس کو قائم رکھنے کی حرص کیوں کہ یہ اجتماع ضرورت ہے لوگوں کے درمیان اس کو قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ فرمایا: ((ثم ارکب الحق ، وخض الیہ الغمرات۔))