کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 99
مشرکوں کی بڑی فوج پر آپ غالب آتے۔ ۳: عمر رضی اللہ عنہ اپنے قائد اعلیٰ (چیف کمانڈر) کے احکامات کو حرف بہ حرف، پوری روحانیت ومعنویت کے ساتھ نافذ کرتے تھے، اس سے ذرّہ برابر نہ ہٹتے تھے اور یہی چیز ہر دور میں اور ہر جگہ عسکری اور فوجی نظام کی روح رہی ہے۔ [1] اور غزوہ خیبر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کا محاصرہ کیا تو فوجی قیادت کا جھنڈا عمر بن خطاب کو دیا۔ آپ کے ساتھ مل کر کچھ لوگوں نے اہل خیبر سے مقابلہ کیا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ گئے اور لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَأُعْطِینَ اللِّوَائَ غَدًا رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) ’’کل جھنڈا میں ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ دوسرے دن ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما مجلس میں آگے آگے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں، آپ نے ان کی آنکھ پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا۔ پھر آپ کے ساتھ مل کر کچھ لوگوں نے اہل خیبر سے مقابلہ کیا۔ دوسری طرف سے ’’مرحب‘‘ ان رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے آیا: قد علمت خیبر أنی مرحب آطعن أحیانا وحینا اضرب ’’خیبر والے جانتے ہیں کہ میرا نام مرحب ہے، کبھی میں نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار زنی۔‘‘ شاک السلاح بطل مجرب إذا اللیوث اقبلت تلہب ’’ہتھیار سے لیس، تجربہ کار بہادر ہوں، جب شیر آگے آجاتے ہیں بپھر اٹھتے ہیں۔‘‘ پھر وہ اور علی رضی اللہ عنہ گتھم گتھا ہو گئے۔علی رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ تلوار اس کے خود کو کاٹتی ہوئی اس کے سر میں گھس گئی اور کیمپ کے سبھی فوجیوں نے اس کی مار کی آواز سنی، پھر دشمن کا کوئی بھی آدمی علی رضی اللہ عنہ کے مقابل میں نہ آیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ اور مسلمانوں کے لیے خیبر فتح کردیا۔ غزوۂ خیبر ہی کے موقع پر جب صحابہ کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ فلاں شہید ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق، ص:۱۹۱ [2] مختصر منہاج القاصدین، ص:۲۹۳، فرائد الکلام للخلفاء، ص:۱۳۹ [3] حجاز کے مشرق میں یہ وادی واقع ہے اور نجد کے بالائی حصہ سے اس میں پانی گرتا ہے۔ [4] ہلال بن عامر بن صعصعۃ بن معاویۃ بن بکر بن ہوازن۔ [5] الطبقات/ ابن سعد: ۳/ ۲۷۲ [6] السیرۃ النبویۃ/ ابن ہشام: ۲/ ۲۲۸۔ أخبار عمر، ص: ۳۴