کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 96
غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ [1] ۳: صلح حدیبیہ اور ہوازن و غزوہ خیبر: صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجنے کے لیے بلایا تاکہ وہ اشراف قریش کو اپنی آمد کا مقصد بتا دیں۔ تو آپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے بارے میں قریش سے خطرہ ہے، اور مکہ میں بنو عدی بن کعب کا کوئی فرد بھی نہیں ہے جو میری حفاظت کرسکے، نیز قریش سے میری عداوت اور ان کے لیے میری سختی سے بھی آپ واقف ہیں۔ لہٰذا میں آپ کو ایسا آدمی بتاتا ہوں جو ان کے نزدیک مجھ سے زیادہ باعزت ہے۔ وہ عثمان بن عفان ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان کو بلایا، اور انہیں ابوسفیان ودیگر اشراف قریش کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ہماری آمد کا مقصد جنگ کرنا نہیں ہے، بلکہ ہم خانہ کعبہ (بیت اللہ) کی زیارت اور اس کی تقدیس وتعظیم کرنے آئے ہیں۔ [2] جب صلح نامہ کے معاہدہ پر اتفاق ہوگیا اور صرف اس کی قرار دادوں کو لکھنا باقی رہا تو مسلمانوں میں اس معاہدہ سے متعلق سخت مخالفت ہوئی۔خاص طور سے ان دو قرار دادوں پر سخت اعتراض تھا جن میں ایک کے بموجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مسلمانوں کو واپس لوٹانا ضروری تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر پناہ لیں، جب کہ قریش کے لیے ان افراد کا لوٹانا ضروری نہ تھا جو مرتد ہو کر ان کی پناہ لیں اور دوسرے کے بموجب اس سے مکہ میں داخل نہ ہوں اور حدیبیہ ہی سے مدینہ واپس لوٹ جائیں۔ ان قرار دادوں پر سب سے مخالف اور اس کے بڑے معترض عمر بن خطاب، قبیلہ اوس کے سردار اسید بن حضیر اور خزرج کے سردار سعد بن عبادہ تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس معاہدہ کی علانیہ مخالفت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس کا رسول ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مسلمان ہو۔ انہوں نے کہا: کیا وہ مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ مشرک ہیں۔ انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کیوں یہ گھٹیا شرط مان رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ [3] اور ایک روایت میں ہے: (( أَ نَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَہٗ وَلَنْ یُّضَیِّعَنِیْ۔)) [4] ’’میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اس کے حکم کی خلاف ورزی ہرگز نہ کروں گا اور وہ مجھے ہرگز [1] السیریۃ النبویۃ الصحیحۃ: ۲/ ۴۰۹ [2] السیریۃ النبویۃ / ابن ہشام: ۳/ ۳۱۹ [3] السیریۃ النبویۃ الصحیحۃ: ۲/ ۴۰۹ [4] التربیۃ القیادیۃ: ۳/ ۴۶۳ [5] التربیۃ القیادیۃ: ۳/ ۴۶۳ [6] مدینہ کی ایک وادی کا نام ہے۔