کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 92
جب عمیر بن وہب اسلام لانے سے پہلے اور غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی غرض سے مدینہ آئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی ایک جماعت میں غزوہ بدر کے بارے میں بات کر رہے تھے، اور وہ لوگ اپنے بارے میں اللہ کے اعزاز و اکرام اور جو کچھ ان کے دشمنوں کے بارے میں اس نے انہیں دکھایا تھا اس کا ذکر کر رہے تھے۔ اچانک عمر رضی اللہ عنہ کی نظر عمیر بن وہب پر اس وقت پڑی جب کہ وہ مسجد نبوی کے دروازے کے سامنے تلوار لٹکائے اپنی اونٹنی کو بٹھا رہا تھا۔ آپ نے آواز لگائی: یہ کتا اللہ کا دشمن عمیر بن وہب ہے، یہ کسی بری نیت ہی سے آیا ہے، اسی نے ہمیں نبرد آزمائی پر اُبھارا ہے اور بدر کے دن مشرکوں سے مقابلہ کے لیے اکٹھا کیا ہے۔ پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب ہے، جو تلوار لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اس کی تلوار کے پٹکے سے اس کی گردن لپیٹ دی اور اسے قید کرلیا اور وہاں موجود انصار سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور وہاں بیٹھو، اور اس خبیث کے شر سے آپ کو آگاہ کرو، کیونکہ اس سے ہمیشہ خطرہ ہے۔ پھر آپ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر خدمت ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا کہ عمر اس کی تلوار کے پٹکے سے اس کی گردن کو باندھے ہوئے لا رہے ہیں تو کہا: اے عمر اسے چھوڑ دو، اور اے عمیر تم قریب آؤ، وہ قریب آیا اور کہا: صبح بخیر۔ اس کلمہ کے ذریعہ سے اہل جاہلیت ایک دوسرے کو تحیہ پیش کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَکْرَمْنَا اللّٰہُ بِتَحِیَّۃٍ خَیْرٌ مِّنْ تَحِیَّتِکَ یَا عُمَیْرُ، بِالسَّلَامِ، تَحِیَّۃُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔))[1] ’’اے عمیر! اللہ نے ہمیں تمہارے تحیہ سے بہتر تحیہ یعنی السلام علیکم کے ذریعہ سے اعزاز بخشا ہے، یہ جنت والوں کا تحیہ ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمیر! تم کس مقصد سے آئے تھے؟ اس نے کہا: قیدی کو آزاد کرانے کی نیت سے آیا تھا، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، آپ اس پر احسان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہاری گردن میں تلوار کیوں لٹک رہی ہے؟ اس نے کہا: اللہ ان تلواروں کا برا کرے، ان سے ہمیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سچ سچ بتاؤ تم کس نیت سے آئے تھے؟ اس نے کہا: میں اسی (مذکورہ) مقصد سے آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اور صفوان بن امیہ حِجْر میں بیٹھے تھے، ان سرداران قریش کے بارے میں تمہاری گفتگو ہوئی جو قلیب بدر میں ڈال دیے گئے، پھر تم نے کہا کہ اگر میں مقروض نہ ہوتا اور بال بچے نہ ہوتے تو میں جاتا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کردیتا۔ چنانچہ صفوان بن امیہ نے تمہارے قرض اور بال بچوں کی ذمہ داری اس پر شرط پر قبول کرلی کہ تم مجھے قتل کردو، اللہ تمہاری نیت سے واقف ہے۔ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ جو آسمانی خبریں ہمیں سناتے تھے اور جو آپ پر وحی [1] البدایۃ والنہایۃ: ۳/ ۳۱۱ [2] التاریخ الإسلامی/ الحمیدی: ۴/ ۱۸۱ [3] مسند أحمد، حدیث نمبر: ۱۸۲، الموسوعۃ الحدیثیۃ۔ اس کی سند صحیح ہے اور شیخین کی شرط پر ہے۔