کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 85
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت سیّدناعمر رضی اللہ عنہ باشندگان مکہ کے ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے اَن پڑھ معاشرہ میں لکھنا پڑھنا سیکھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بچپن ہی سے آپ کو علم سے والہانہ لگاؤ تھا اور آپ کی کوشش تھی کہ ان منتخب افراد میں سے ہو جائیں جنہوں نے اپنی اُمیت (ناخواندگی) کو مٹا دیا، نفوس کو مہذب بنا لیا اور مختلف عوامل واسباب کی وجہ سے زمانۂ رسالت میں ایک اونچا مقام حاصل کرلیا۔ ان عوامل میں سے ایک چیز یہ بھی تھی کہ آپ پڑھنے لکھنے پر خصوصی توجہ دیتے اور اس وقت اس کی بڑی اہمیت تھی۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے پڑھنا لکھنا اور ابتدائی تعلیم حرب بن امیہ یعنی ابوسفیان کے والد سے حاصل کی ۔ [1] پڑھنے لکھنے کی اسی خصوصیت نے آپ کو اس قابل بنا دیا کہ اس وقت آپ قوم کی تہذیب وثقافت سے آراستہ ہوجائیں۔ اگرچہ ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو نکھارنے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، کردار کو نمایاں کرنے اور نفس کو مہذب بنانے کا سب سے بڑا محرک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت اور تعلیم گاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہونا تھا۔ بایں طور کہ آپ اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں عوالی … مدینۃ النّبی سے متصل علاقہ … میں قیام پذیر ہوئے تو وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہے۔ عوالی کا یہ علاقہ موجودہ دور میں مسجد نبوی سے متصل ہے۔ کیونکہ آبادی بڑھ گئی ہے اور شہر مدینہ کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے، اور گرد وپیش کے علاقوں کو شامل ہوگیا ہے۔ غرض یہ کہ اسی علاقہ میں عمر رضی اللہ عنہ نے خود کو منظم کیا اور علوم ومعارف سیکھنے کے لیے پوری انسانیت کے معلم وہادی کے سامنے تعلیم گاہ نبوت میں زانوئے تلمذ تہ کرنے کے حریص ہوئے۔ ایسا ہادی اور معلم جسے اس کے ربّ نے تعلیم وتربیت دی تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ سے قرآن، حدیث یا کسی معاملہ، واقعہ اور ارشاد ورہنمائی سے متعلق کوئی بھی تعلیمِ نبوی کا پند نہیں چھوٹتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں اور بنو امیہ بن زید کا میرا ایک انصاری پڑوسی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے تھے، ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں آتا۔ جب میں آتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں لاتا، اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ [2] یہ روایت ہمیں اس شرعی چشمۂ فیضان کی خبر دیتی ہے جس سے عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، تربیت اور ثقافت کی آبیاری کی، یعنی وہ چشمۂ ہدایت اللہ عزوجل کی کتاب ہے، جو واقعات [1] تفسیر ابن کثیر: ۴/ ۵۳۷۔ [2] تفسیر ابن کثیر: ۴/ ۵۲۴۔