کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 841
ب: مصر کے ایک نامور ادیب عباس محمود عقاد کہتے ہیں: ’’ناموران اسلام پر نقد و تبصرہ کے سلسلہ میں اس عظیم شخصیت (عمر فاروق) پر تنقید و تبصرہ کرنا میری زندگی کا مشکل ترین کام رہا ہے اور مزید خصوصیت یہ ہے کہ فرط تحقیق اور فرط اعجاب آپ کے خلاف یا آپ کے حق میں حکم لگانے میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ میری کتاب ’’عبقریۃ عمر‘‘ ان تاریخی کتابوں کے طرز پر عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت اور آپ کے دور کی تاریخ کی کتاب نہیں ہے جس کا مقصد صرف واقعات وحوادث کو بیان کرنا ہوتا ہے، بلکہ یہ کتاب آپ کی صفت کی عکاس ہے۔ اس میں آپ کی حکومت کے مختلف مراحل پر تحقیقی تبصرہ ہے اور آپ کی عظمت و بڑائی کی خصوصیات اور نیز علم نفس، علم اخلاق اور زندگی کے حقائق میں ان خصوصیات سے استفادہ کرنے کا لائحہ عمل ہے۔ اس وقت ہم جس دور سے گزر رہے ہیں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو بالکل اسی جیسے دور کا آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ آج بھی ظالمانہ قوت واقتدار کی پوجا عام ہو چکی ہے اور کمزور عقیدہ کے بزدل لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ طاقت اور حق اکٹھے نہیں ہو سکتے، لہٰذا اگر ہم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے ایک عظیم اور طاقتور حاکم، قائد وسپہ سالار کو سمجھ لیں گے تو اس بنیاد پر ظالمانہ اقتدار و قوت کو توڑنے میں یقینا کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ ہم نے ایک ایسی عظیم شخصیت کو سمجھا ہے جو بے حد طاقتور ہونے کے ساتھ مثالی عدل پرور اور بے انتہا شفیق و مہربان تھی۔ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی شخصیت کی معرفت موجودہ دور کی تباہی و بیماری کے لیے تریاق ہے کہ جس سے شفا کی آخری امید لگائے ہوئے ہر بیمار کو شفا مل سکتی ہے۔‘‘[1] ت: ڈاکٹر احمد شلبی کہتے ہیں: ’’سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت میں جو نت نئے احوال و حوادث سے بھری ہوئی ہے، اجتہادی کارنامے آپ کی زندگی کے سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ آپ نے دین کی حفاظت کی، جہاد کا پرچم بلند کیا، ممالک کو فتح کیا، عدل وانصاف کو رواج دیا، اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے وزارت خزانہ کی بنیاد رکھی، ملکی دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے منظم فوجی نظام قائم کیا، فوج کی تنخواہیں مقرر کیں، وظائف جاری کیے، ہر شعبہ کے لیے رجسٹر تیار کرائے، گورنران، افسران اور قاضیوں کو عہدوں پر فائز کیا، زندگی کو بہتر اور ہموار بنانے کے لیے سکے جاری کیے، ڈاک کا نظام وضع کیا، محکمہ قائم کیا، ہجری تاریخ کی بنیادی ڈالی، مفتوحہ زمین کو ذمیوں کے ہاتھ میں باقی رکھا، اسلامی شہروں کی خاکہ بندی کی اور انہیں بسایا، لہٰذا حق کا تقاضا ہے کہ آپ کو امیرالمومنین اور اسلامی سلطنت کا موسس کہا جائے۔‘‘[2] ث: علی علی منصور کا کہنا ہے کہ: ’’آج سے چودہ سو سال پہلے عدلیہ کے باب میں عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے [1] محض الصواب: ۳/ ۹۰۸۔ [2] المعرفۃ والتاریخ، فسوی: ۱/۴۵۷، اس کی سند میں مجالدبن سعد ایک راوی ہے ، جس کا حافظہ آخری عمر میں کمزور ہوگیا تھا۔ [3] مناقب أمیرالمومنین، ابن الجوزی، ص:۲۵۱۔ [4] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/۳۷۲۔ [5] محض الثواب، ص: ۳؍۹۱۱۔ [6] محض الصواب: ۳/۹۱۱، مناقب امیرالمومنین، ص: ۲۵۲۔ [7] الإدارۃ فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب، ص:۳۹۱۔