کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 84
ایک دن آپ ایک راہب کے گھر کے پاس سے گزرے، اس کو ’’اے راہب‘‘ کہہ کر پکارا۔ راہب جھانکنے لگا۔ عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور رونے لگے۔ آپ سے کہا گیا: امیر المومنین! اس کی وجہ سے آپ کیوں روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے اللہ کی کتاب میں اس کا یہ فرمان یاد آگیا: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (3) تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (4) (الغاشیۃ:۳۔۴) ’’محنت کرنے والے، تھک جانے والے ۔گرم آگ میں داخل ہوں گے ۔‘‘انہی آیات نے مجھے رلایا ہے۔ [1] آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ (النساء:۵۱) میں ’’جبت‘‘ کی تفسیر جادو سے اور ’’طاغوت‘‘ کی تفسیر شیطان سے کی ہے۔ [2]  [1] الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ، د/ یحیٰی الیحیٰی: ۳۰۵ [2] المستدرک / الحاکم: ۲/ ۲۷۰ [3] الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الامویۃ، ص: ۳۰۵ [4] تفسیر ابن کثیر: ۴/ ۵۱۳ [5] الفتاویٰ: ۷/ ۴۴ [6] الفتاویٰ: ۱۱/ ۳۸۲