کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 839
الٰہی کے لیے رحمت ثابت ہوئی۔‘‘[1] ث: ابو طلحہ انصاری نے فرمایا کہ اہل عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی موت سے اس کے دین ودنیا میں کمی نہ واقع ہوئی ہو۔[2] ج: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام کی مثال آگے بڑھنے والے کی طرح تھی جو مسلسل آگے ہی بڑھتا رہا، (عروج پر رہا) اور آپ کی شہادت کے بعد اس کی مثال پیچھے رہنے والے کی سی ہوگئی جو مسلسل پیچھے ہی ہوتا چلا گیا یعنی تنزلی کا شکار ہوگیا۔[3] ح: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ختم ہونے کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو کہنے لگے: ’’نماز جنازہ پڑھنے میں تو آپ لوگ مجھ سے سبقت لے گئے، لیکن آپ کی مدح و منقبت کرنے میں مجھ سے آگے نہیں نکل سکے۔ پھر کہا: اے عمر! تم کتنے بہترین مسلمان بھائی تھے، حق کے لیے بے مثال سخی اور باطل کے لیے بخیل، خوشی کے وقت خوش ہوتے تھے اور غضب کے وقت غضبناک، نہ بے جا تعریف کرتے تھے، نہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہتے تھے، آپ پاک نظر وعالی ظرف تھے۔[4] خ: سیّدناعباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پڑوسی تھا، میں نے ان سے بہتر کسی کو نہ دیکھا، آپ نے اپنی راتیں نماز کے لیے اور دن روزہ اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے وقف کر دیے تھے۔ جب آپ کی وفات ہوگئی تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دکھا دے۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ مدینہ کے بازار سے جسم پر تلوار لٹکائے ہوئے واپس آرہے ہیں، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر میں نے ان سے خیریت پوچھی، تو آپ نے کہا: میں خیریت سے ہوں، میں نے پوچھا: آپ کو وہاں کیا ملا؟ انہوں نے کہا: اب جب کہ میں حساب دے چکا ہوں راحت میں ہوں، ورنہ اگر میرا رب رحیم نہ ہوتا تو میرا معاملہ الٹا ہونے والا تھا۔[5] د: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’نہ ابوبکر دنیا کے طلب گار ہوئے نہ دنیا ان کی طلب گار ہوئی۔ رہے عمر، تو ان کو دنیا نے چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا۔ اور رہے ہم (تو ہماری دنیا طلبی کا یہ حال ہے کہ) ہم دنیا میں دنیا کے لیے لوٹ پوٹ رہے ہیں۔‘‘[6] [1] جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص:۲۹۶۔ [2] محض الصواب: ۳/۸۵۲۔ [3] محض الصواب: ۳/۸۵۳۔ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں ، صرف عبدالواحد بن ابی عوف ایسے صدوق ہیں جو کبھی کبھی غلطی کرتے ہیں ۔ [4] محض الصواب: ۳/ ۵۳ ۸ بحوالۃ مناقب أمیر المؤمنین ، ص: ۲۴۹۔ [5] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/۳۷۲، أنساب الإشراف الشیخان ، ص: ۳۸۷۔ [6] مصنف ابن أبی شیبۃ : ۱۲/۳۲، اس کی سند صحیح ہے۔ [7] المعجم الکبیر، الطبرانی: ۹/۱۷۹، ۱۸۰، اس کی سند صحیح ہے۔