کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 838
دلوں میں نفرت ڈالنے کے لیے یہ سازش کی ہے۔ یہی بات زیادہ سمجھ میں آتی ہے اور اسی پر دل کو اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور سے اس لیے کہ وہ بہترین مسلمانوں میں سے تھے اور بہت سارے صحابہ کی نگاہوں میں ان کو بہت بڑا اعتماد حاصل تھا، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کی ہے۔[1] ۷: صحابہ اور اسلام کی طرف سے مدح و منقبت اور تعزیتی کلمات: ا: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی تعلیم و تکریم کا اتنا اہتمام کیا کہ انہی کے بقول: ’’میں اپنے حجرہ میں، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد مدفون ہیں (بغیر کسی پردہ کے) داخل ہوتی تھی، لیکن جب وہاں ان دونوں کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ بھی مدفون ہوگئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی داخل ہوئی سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے لحاظ میں پردے ہی سے داخل ہوئی۔‘‘[2] اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ’’جس نے ابن خطاب کو دیکھ لیا اسے معلوم ہے کہ وہ اسلام کو تقویت دینے کے لیے پیدا کیے گئے تھے، اللہ کی قسم! آپ بے حد واقف کار تھے، علم وہنر میں یگانہ روزگار تھے، ہر فن وضرورت کے مطابق افراد کو تیار کر دیا تھا۔‘‘[3] عروہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ’’جب تم عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑتے ہو تو مجلس میں تازگی آجاتی ہے۔‘‘[4] ب: سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر رو رہے تھے، لوگوں نے پوچھا: کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا: اسلام کے نقصان پر۔ بے شک عمر رضی اللہ عنہ کی موت سے اسلام کی عمارت میں ایسا شگاف پڑ گیا ہے جو قیامت تک پر نہیں ہو سکتا۔[5] ت: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور پوری روئے زمین والوں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔[6] اور ایک مرتبہ کہا: میں سمجھتا ہوں کہ عمر کی موت سے علم کا ۱۰/ ۹ حصہ اس دنیا سے چلا گیا۔[7] اور فرمایا: ’’عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا نوید فتح، آپ کی ہجرت مسلمانوں کے لیے نصرت اور آپ کی حکومت خلق [1] الطبقات الکبرٰی: ۳/ ۳۶۱۔ [2] الطبقات الکبرٰی: ۳/ ۳۴۰۔ [3] جولۃ عصر الخلفاء الراشدین، ص:۲۹۶۔ [4] البدایۃ والنہایۃ: ۷/۱۳۷۔