کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 836
و: تورات اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے، لیکن اس میں ایسا کوئی واقعہ قطعاً نہیں ہے۔[1] مذکورہ بالا چار اعتراضات کو ذکر کرنے کے بعد شیخ محمد ابوزہو فرماتے ہیں: ’’ان تمام وجوہات پر غور کرنے کے بعد ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ بالکل جھوٹا ہے، اس کے جھوٹ ہونے میں ذرہ برابر شک نہیں ہے اور کعب پر یہ تہمت لگانا کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اسلام کے ساتھ غداری کی، یا تورات کی طرف غلط بات منسوب کرنا یہ سب جھوٹی تہمتیں ہیں ان کی کوئی دلیل اور سند نہیں ہے۔‘‘[2] ڈاکٹر محمد حسین ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس واقعہ کو ابن جریر طبری کا نقل کرنا اس کی صحت کی دلیل نہیں ہے، اس لیے کہ ابن جریر کے بارے میں ہر ذی علم یہ جانتا ہے کہ تمام روایات کے نقل کرنے میں وہ صحت کا التزام نہیں کرتے، اگر ان کی تفسیر کا تحقیقی مطالعہ کریں گے تو ایسی بہت سی باتیں ملیں گی جو صحیح نہیں ہیں۔[3] یہی حال ان کی تاریخی روایات کا بھی ہے۔ تمام واقعات کے بارے میں یہ بات قطعی طور سے نہیں کہی جا سکتی کہ صحیح ہیں یا غلط، صرف طبری ہی نہیں، بلکہ تمام تاریخی کتابوں میں جو روایات منقول ہیں[4] ان کے بارے میں کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس میں ساری روایات صحیح اور ثابت ہیں۔[5] پھر گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کعب احبار کی دینداری، اخلاق وکردار، امانت و صداقت اور عموماً صحیح روایات کا اہتمام کرنے والوں کی طرف سے ان کی توثیق کی بنیاد پر ہم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں[6] کہ اس واقعہ کی ان کی طرف نسبت سراسر غلط ہے اور ہم انہیں عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش یا سازش کرنے والوں کی جانکاری سے بالکل بری مانتے ہیں۔ اسی طرح ہم انہیں کذب وافتراپردازی سے پاک وصاف سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بات کو مستند بنانے کے لیے تورات کے حوالے کا ڈھونگ رچایا ہوگا یا اسے اسرائیلی روایت کے قالب میں ڈھالا ہوگا۔[7] اس مسئلہ میں کعب مظلوم ہیں، انہیں ہم ثقہ اور دیانت دار سمجھتے ہیں، آپ ایک عالم تھے، آپ کے نام کا غلط استعمال ہوا ہے اور آپ کی طرف ایسی روایات منسوب کر دی گئی ہیں جو سراسر خرافات اور جھوٹ ہیں، اعدائے اسلام انہیں عوام میں رواج دینا چاہتے ہیں اور نرے گنوار وجاہل لوگ انہیں قبول بھی کر لیتے ہیں۔‘‘[8] [1] الحدیث والمحدثون، أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ، محمد أبو زھو، ص:۱۸۲۔ [2] الحدیث والمحدثون، أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ، محمد أبو زھو، ص:۱۸۳۔ [3] الحدیث والمحدثون، أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ، محمد أبو زھو، ص:۱۸۲۔ [4] العنصریۃ الیہودیۃ: ۲/۵۲۴۔