کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 826
اور ابن مسیب کا کہنا ہے کہ: جب مسلمانوں نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے صہیب رضی اللہ عنہ فرض نمازوں میں ان کی امامت کرتے تھے تو انہوں نے نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی صہیب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا، پھر انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی۔[1] فاروقی تدبیر وسیاست کا ایک پہلو یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ خلافت کی نامزدگی کے لیے جن چھ افراد کی مجلس شوریٰ بنائی تھی ان میں کسی کو اپنی جگہ امامت کا حق نہیں دیا تھا، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نماز کی امامت استحقاق خلافت کی علامت بن جائے اور عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کی نگاہ میں صہیب رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت مسلم تھی اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں فرمایا: ’’صہیب کتنا اچھا آدمی ہے، اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہے کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔‘‘[2] ۴: تدفین: امام ذہبی کا قول ہے کہ’’عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین حجرئہ نبویہ میں ہوئی۔‘‘[3] اور ابن الجوزی نے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی قبر میں عثمان، سعید بن زید، صہیب اور عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم اترے۔[4] اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک[5] کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبر پر دیوار گر گئی تھی تو لوگ اسے بنانے لگے، انہیں ایک پاؤں دکھائی دیا، وہ گھبرا گئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ شاید یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں ہے، کوئی اس کی شناخت نہیں کر پا رہا تھا، یہاں تک کہ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں نہیں ہے، بلکہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔[6] اور تدفین سے متعلق یہ بات گزر چکی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ تدفین کی اجازت طلبی کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا، تو آپ نے اجازت دی تھی، جب کہ ہشام بن عروہ بن زبیر کہتے ہیں: صحابہ کرام میں سے اگر کوئی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام بھیجتا کہ حجرئہ نبویہ میں ہمیں تدفین کی اجازت دے دیں تو کہتی تھیں: اللہ کی قسم اس سلسلے میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہ دوں گی۔[7] چنانچہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ مسجد نبوی سے متصل اس حجرہ نبویہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مدفون ہیں۔[8] ۵: عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کا فرمان: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے تختے پر رکھے گئے، جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے لوگوں [1] محض الصواب: ۳/۸۴۰، التہذیب: ق، ۱۷۷، ب۔ [2] سیر السلف، ابو القاسم أصفہانی، ۱/۱۶۰۔ [3] صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر: ۲۳۵۲، محض الصواب: ۳/۸۴۳۔ [4] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/ ۳۶۶، اس کی سند صحیح ہے۔ [5] الإنصاف، مرداوی: ۲/۵۰۳، محض الصواب: ۳/ ۸۴۴۔ [6] محض الصواب: ۳/۸۴۵۔ [7] محض الصواب: ۳/۸۴۵۔ [8] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/ ۳۶۶، اس کی سند میں خالد بن الیاس نامی متروک راوی ہیں ۔