کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 825
روایت کے مطابق اس وقت آپ کی عمر ۶۳ سال تھی۔[1] آپ کی مدت خلافت دس سال چھ مہینے اور کچھ دن ہے۔[2] جریر بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت آپ تریسٹھ (۶۳) سال کے تھے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو وہ تریسٹھ سال کے تھے اور جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو اس وقت ان کی عمر بھی تریسٹھ (۶۳) سال تھی۔[3] ۲: غسل، نماز جنازہ اور تدفین: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’آپ غسل دیے گئے، کفنائے گئے اور نماز جنازہ پڑھی گئی۔ آپ شہید تھے۔‘‘ [4] علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو کیا وہ شہید کے حکم میں ہوگا کہ اسے غسل نہ دیا جائے یا عام میت کے حکم میں ہوگا کہ اسے غسل دیا جائے؟ پہلا قول:… اس کو غسل دیا جائے گا۔ اس قول کی دلیل عمر رضی اللہ عنہ کا یہی مذکورہ واقعہ ہے۔[5] دوسرا قول:… نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ نے جو کچھ کیا اس کا جواب یہ ہے کہ مظلوم مقتول سے قطع نظر وہ شہید بھی جو معرکہ جہاد میں لڑتے ہوئے زخمی ہو اور اسے اتنا موقع مل جائے کہ کھا پی سکے یا کچھ دن تک زندہ رہے تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ پس اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد آپ دیر تک زندہ رہے، اتنی دیر کہ طبیب نے آپ کو دودھ اور شربت پلایا، اسی لیے آپ کو غسل دلایا گیا اور آپ پر نماز جنازہ پڑھی گئی۔[6] ۳: نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟ امام ذہبی کا کہنا ہے کہ صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔[7] اور ابن سعد کا کہنا ہے کہ علی بن حسین نے سعید بن مسیب سے پوچھا: عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟ انہوں نے جواب دیا: صہیب رضی اللہ عنہ نے۔ علی نے سعید سے پوچھا: کتنی تکبیریں کہیں؟ انہوں نے کہا: چار۔ پھر پوچھا: کہاں نماز جنازہ پڑھی گئی؟ انہوں نے کہا: قبر اور منبر رسول اللہ کے درمیان۔[8] [1] صحیح البخاری، مع الفتح، فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر ۳۶۹۲۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۹/۳۳۔ [3] صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق، ص:۳۸۳۔ [4] التاریخ الإسلامی: ۱۹/۴۴۔۴۵۔