کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 823
رہ جائے گا۔ ’’کمزوروں اور محتاجوں کے لیے اپنا دروازہ بند نہ رکھنا کہ طاقتور کمزور کو نگلنے لگے۔‘‘ ھ: حق بات پر ڈٹے رہنا اور ہر حال میں معاشرہ میں حق کو عام کرنے کی پوری کوشش کرنا حاکم وقت کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ یہ ایسی معاشرتی ضرورت ہے جسے انسانی سماج میں نافذ کرنا قطعاً ضروری ہے۔ ’’حق پر جمے رہو، زندگی کی آخری سانس اسی پر بند ہو۔‘‘ اور کہا: ’’رعایا کا ہر فرد تمہاری نگاہ میں یکساں ہو، حق کو حق دار تک پہنچانے میں کوئی تردد نہ کرو۔‘‘ و: ظلم کی ہر شکل اور ہر نوعیت سے اجتناب لازم ہے، خاص طور سے ذمیوں کے ساتھ اس کی رعایت بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ اسلامی ملک میں بسنے والے مسلمان ہوں یا ذمی، سب کے ساتھ عدل و انصاف کرنا شرعی ذمہ داری ہے تاکہ پوری انسانیت اسلامی عدل کا سبق سیکھ سکے۔ آپ کی نصیحت تھی: ’’ذمیوں پر خود یا کسی دوسرے کو ظلم کرنے کی قطعاً اجازت نہ دو۔‘‘ ز: دیہاتی باشندوں کو نظر انداز کرنا قطعاً درست نہیں، ان کی دیکھ بھال اور ان پر توجہ دینا حکومتی ذمہ داری ہے۔ آپ نے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ’’دیہات کے عرب باشندوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا، کیونکہ وہی اصل عرب اور مادۂ اسلام ہیں۔‘‘[1] ح: مذکورہ وصیت کے ساتھ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کے خلیفہ کے لیے ایک وصیت یہ بھی کی تھی کہ ’’میرا مقرر کیا ہوا کوئی بھی عامل آئندہ ایک سال سے زیادہ اپنے عہدہ پر باقی نہ رہے، البتہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو چار سال تک باقی رہنے دینا۔‘‘[2] زندگی کے آخری لمحات: ابن عباس رضی اللہ عنہما ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات کے حالات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: حملہ کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: اے امیرالمومنین! جنت کی بشارت قبول کیجیے، جب لوگوں نے کفر کیا تو آپ اسلام لائے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا تو آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ سے خوش تھے، آپ کی خلافت پر کسی نے اختلاف نہ کیا اور اب آپ رخصت ہورہے ہیں تو شہادت کی موت پا رہے ہیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ پھر دوبارہ کہو! میں نے اپنی بات پھر دہرائی۔ آپ کہنے لگے: قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں قیامت کی ہولناکی سے نجات پانے کے لیے زمین کے سارے خزانے نچھاور کر دیتا۔[3] [1] الخلیفۃ الفاروق عمر بن الخطاب ، عانی ، ص: ۱۷۴، ۱۷۵۔