کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 812
تک اجازت نہ دیتے جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں۔ دراصل آپ کا یہ موقف آپ کی بالغ نظری اور حکمت و دور اندیشی کی بہت بڑی دلیل ہے، بلاشبہ اس مغلوب وشکست خوردہ قوم کے دل میں اسلام کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، وہ اسلام کے خلاف بغض و عداوت کو دل میں زندہ رکھتے اور اسلام ومسلمانوں کے خلاف مکرو فریب اور سازشیں کرتے۔ اس لیے آپ نے مدینہ منورہ میں ان کی رہائش قطعاً ممنوع قرار دی تھی تاکہ مسلمان ان کے شر و فساد سے محفوظ رہیں۔ لیکن چند صحابہ کرام کے پاس انہی نصاریٰ اور مجوسیوں میں سے کچھ جنگی غلام تھے، انہوں نے آپ سے اصرار کیا کہ ہمارے ماتحت ان غلاموں کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دیجیے تاکہ ہم اپنے کاروبار اور ضروریات میں ان سے خدمت لے سکیں، چنانچہ آپ نے بادل ناخواستہ انہیں مدینہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی اور اس کا انجام وہی ہوا جس کی آپ کو توقع تھی اور جس سے آپ خطرہ محسوس کر رہے تھے۔[1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور جدید قیادت کے لیے مجلس شوریٰ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی شہادت: عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جس دن سیّدناعمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے میں فجر کی نماز میں صف بندی کیے کھڑا تھا، میرے اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ آپ جب دو صفوں کے بیچ سے گزرتے تو فرماتے: صفیں درست کر لو۔ جب صفیں درست ہو جاتیں تو آپ آگے بڑھتے اور تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کرتے۔ عموماً سورئہ یوسف یا سورئہ نحل یا اسی طرح کی کوئی لمبی سورت پہلی رکعت میں تلاوت کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پہلی رکعت پا لیں۔ (آج آپ نے) اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع ہی کی تھی کہ میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: کتے نے مجھے مار ڈالا، یا کہا: کھا لیا۔ پھر یہ مجوسی مردود اپنا دو دھاری چھرا لے کر بھاگا، دائیں بائیں جو مسلمان بھی ملا اسے زخمی کرتا ہوا بھاگتا رہا، یہاں تک کہ تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا، ان میں سے سات لوگ شہید ہو گئے۔ یہ حال دیکھ کر ایک مسلمان نے اس پر اپنا جبہ پھینک کر پھنسا لیا، جب اس نے سمجھا کہ اب میں پکڑ لیا جاؤں گا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ ادھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو امام بنا دیا (کہ نماز پوری کریں) جو لو گ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے، انہوں نے تو یہ سب حال دیکھا اور دور والے مقتدیوں کو یہ خبر ہی نہیں ہوئی، مگر قرأت میں انہوں نے جب عمر رضی اللہ عنہ کی آوازنہ سنی تو سبحان اللہ کہنے لگے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جلدی سے ہلکی پھلکی نماز پوری کی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: دیکھو تو میرا قاتل کون ہے؟ کچھ دیر تک وہ گھومے (خبر لیتے رہے) پھر آئے اور کہنے لگے: مغیرہ کا غلام۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہی کاریگر غلام؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اسے غارت کرے، میں نے اس کے ساتھ [1] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/۳۳۲ اس کی سند صحیح ہے۔ [2] الموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند أحمد، حدیث نمبر: ۸۹ ،اس کی سند صحیح ہے۔ [3] الخلفاء الراشدون، خالدی، ص:۸۲، صحیح البخاری، حدیث نمبر ۳۷۰۰۔